حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 605 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 605

جمال وحسن قرآں نور جان ہر مسلماں ہے قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے نظیر اُس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلام پاک رحماں ہے بہار جاوداں پیدا ہے اُس کی ہر عبارت میں نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اس سا کوئی بستاں ہے کلامِ پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز اگر لولوئے عثماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لاعلمی سخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے بنا سکتا نہیں اک پانو کیڑے کا بشر ہرگز تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اُس پہ آساں ہے ارے لوگو کرو کچھ پاس شان کبریائی کا زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بُوئے ایماں ہے خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے خدا سے کچھ ڈرو یارو یہ کیسا کذب و بہتاں ہے اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذات واحد کا تو پھر کیوں اس قدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو! نصیحت ہے غریبانہ کوئی جو پاک دل ہووے دل و جاں اُس پر قرباں ہے ( براہین احمدیہ ہر چہار خصص۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۱۹۸ تا۲۰۴) سے انوار کا دریا نکلا نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس حق کی توحید کا مُرجھا ہی چلا تھا پودا ناگہاں غیب سے یہ چشمه اصفی نکلا یا الہی! تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا وہ پہلے سمجھے تھے کہ موسی کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ہے ایسا چکا ہے کہ صد تیر بیضا نکلا زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اٹمی نکلا ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۰۶،۳۰۵ حاشیه در حاشیہ نمبر ۲)