حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 606
۶۰۶ از نور پاک قرآں صبح صفا دمیده برنچائے دلہا باد صبا وزیده 1 این روشنی و لمعاں شمس اصحی ندارد وایں دلبری و خوبی کس در قمر ندیده ۲ یوسف بقعر چاہے محبوس ماند تنہا وایس یوسفی که تن با از چاه برکشیده ۳ از مشرق معانی صدہا دقائق آورد قد ہلال نازک زاں ناز کی خمیدہ سے کیفیت علومش دانی شان دارد شهدیست آسمانی از وحی حق چکیده ۵ آن نیز صداقت چوں رُو بعالم آورد ہر بوم شب پرستی در کنج خود خزیده 1 روئے یقین نہ بند ہرگز کے بدنیا الا کسی که باشد با رویش آرمیده ک آنکس که عالمش شد شد مخزن معارف وآں بے خبر ز عالم کیں عالم ندیده 2 باران فضل رحماں آمد بمقدم او بد قسمت آنکه از وے سوئے دگر دویده 2 میل بدی نباشد الا رگے ز شیطاں آن را بشر بدانم کز هر شرے رہیدہ نا اے کان دلربائی دانم که از کجائی تو نور آں خدائی کیں خلق آفریدہ لے میلم نماند باکس محبوب من توئی بس زیرا کہ زاں فغاں رس نورت بما رسیده ۱۱۲ ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۰۵،۳۰۴ حاشیه در حاشیہ نمبر۲) لے قرآن کے پاک نور سے روشن صبح نمودار ہوگئی اور دلوں کے غنچوں پر بادِ صبا چلنے لگی۔ے ایسی روشنی اور چمک تو دو پہر کے سورج میں بھی نہیں اور ایسی کشش اور حسن تو کسی چاندنی میں بھی نہیں۔سے یوسف تو ایک کنوئیں کی تہ میں اکیلا گرا تھا مگر اس یوسف نے بہت سے لوگوں کو کنوئیں میں سے نکالا ہے۔سے منبع حقائق سے یہ سینکڑوں حقائق اپنے ہمراہ لایا ہے۔ہلالِ نازک کی کمر ان حقائق سے جھک گئی ہے۔تجھے کیا پتہ کہ اس کے علوم کی حقیقت کس شان کی ہے؟ وہ آسمانی شہد ہے جو خدا کی وحی سے ٹپکا ہے۔یہ سچائی کا سورج جب اس دنیا میں ظاہر ہوا تو رات کے پجاری اگو اپنے اپنے کونوں میں جا گھسے۔کے دنیا میں کسی کو یقین کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔مگر اسی شخص کو جو اس کے منہ سے محبت رکھتا ہے۔جو اس کا عالم ہو گیا وہ خود معرفت کا خزانہ بن گیا اور جس نے اس عالم کو نہیں دیکھا اسے دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں۔رحمان کے فضل کی بارش ایسے شخص کی پیشوائی کو آتی ہے بدقسمت وہ ہے جوا سے چھوڑ کر دوسری طرف بھاگا۔ا بدی کی طرف رغبت ایک شیطانی رگ ہے میں تو اسے بشر سمجھتا ہوں جو ہر شر سے نجات پائے۔لا اے کان حسن میں جانتا ہوں کہ تو کس سے تعلق رکھتی ہے تو تو اس خدا کا نور ہے جس نے یہ مخلوقات پیدا کی۔۱۲ مجھے کسی سے تعلق نہ رہا اب تو ہی میرا محبوب ہے کیونکہ اس خدائے فریادرس کی طرف سے تیرا نور ہم کو پہنچا ہے۔