حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 595
۵۹۵ حقیقی طور پر زید و بکر کو کچھ چیز سمجھا جائے تو یہ بھی شرک ہے۔تیسری قسم توحید کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھانا اور اپنے وجود کو اس کی عظمت میں محو کرنا۔یہ توحید توریت میں کہاں ہے۔ایسا ہی توریت میں بہشت اور دوزخ کا کچھ ذکر نہیں پایا جا تا اور شاید کہیں کہیں اشارات ہوں۔ایسا ہی تو ریت میں خدا تعالیٰ کی صفات کا ملہ کا کہیں پورے طور پر ذکر نہیں۔اگر توریت میں کوئی ایسی سورۃ ہوتی جیسا کہ قرآن شریف میں قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ۔اللهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا اَحَدٌ ہے تو شاید عیسائی اس مخلوق پرستی کی بلا سے رُک جاتے۔ایسا ہی تو ریت نے حقوق کے مدارج کو پورے طور پر بیان نہیں کیا۔لیکن قرآن نے اس تعلیم کو بھی کمال تک پہنچایا ہے مثلاً وہ فرماتا ہے إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبى ہے۔یعنی خدا حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم احسان کرو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ تم لوگوں کی ایسے طور سے خدمت کرو کہ جیسے کوئی قرابت کے جوش سے خدمت کرتا ہے یعنی بنی نوع سے تمہاری ہمدردی جوش طبعی سے ہو کوئی ارادہ احسان رکھنے کا نہ ہو جیسا کہ ماں اپنے بچہ سے ہمدردی رکھتی ہے۔ایسا ہی تو ریت میں خدا کی ہستی اور اس کی وحدانیت اور اس کی صفات کا ملہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے نہیں دکھلایا لیکن قرآن شریف نے ان تمام عقائد اور نیز ضرورتِ الہام اور نبوت کو دلائل عقلیہ سے ثابت کیا ہے اور ہر ایک بحث کو فلسفہ کے رنگ میں بیان کر کے حق کے طالبوں پر اس کا سمجھنا آسان کر دیا ہے اور یہ تمام دلائل ایسے کمال سے قرآن شریف میں پائے جاتے ہیں کہ کسی کی مقدور میں نہیں کہ مثلاً ہستی باری پر کوئی ایسی دلیل پیدا کر سکے کہ جو قرآن شریف میں موجود نہ ہو۔ماسوا اس کے قرآن شریف کے وجود کی ضرورت پر ایک اور بڑی دلیل یہ ہے کہ پہلی تمام کتابیں موسی کی کتاب توریت سے انجیل تک ایک خاص قوم یعنی بنی اسرائیل کو اپنا مخاطب ٹھہراتی ہیں۔اور صاف اور صریح لفظوں میں کہتے ہیں کہ ان کی ہدایتیں عام فائدہ کے لئے نہیں بلکہ صرف بنی اسرائیل کے وجود تک محدود ہیں مگر قرآن شریف کے مدنظر تمام دنیا کی اصلاح ہے اور اُس کی مخاطب کوئی خاص قوم نہیں بلکہ کھلے کھلے طور پر بیان فرماتا ہے کہ وہ تمام انسانوں کے لئے نازل ہوا ہے اور ہر ایک کی (کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳ ۸ تا ۸۵) اصلاح اس کا مقصود ہے۔الاخلاص : ۲ تا ۵ ۲ النحل: ۹۱