حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 594 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 594

۵۹۴ اور اعلیٰ قرار دینے میں یہ لازم آتا ہے کہ دوسری الہامی کتابیں ادنیٰ درجہ کی ہوں حالانکہ وہ سب ایک خدا کی کلام ہے۔اُس میں ادنیٰ اور اعلیٰ کیونکر تجویز ہو سکتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بے شک بہ اعتبار نفس الہام کے سب کتابیں مساوی ہیں مگر باعتبار زیادت بیان امور مکملات دین کے بعض کو بعض پر فضیلت ہے پس اسی جہت سے قرآن شریف کو سب کتابوں پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ جس قدر قرآن شریف میں امور تکمیل دین کے جیسے مسائل توحید اور ممانعت انواع و اقسام شرک اور معالجات امراض روحانی اور دلائل ابطال مذاہب باطلہ اور براہین اثبات عقائد حقه وغیره بکمال شد و مد بیان فرمائے گئے ہیں وہ دوسری کتابوں میں درج نہیں۔( براہین احمدیہ ہر چہار حصص۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۴ ۷ حاشیہ نمبر۲) یہ دعوی پادریوں کا سراسر غلط ہے کہ ” قرآن توحید اور احکام میں نئی چیز کونسی لایا جو توریت میں نہ تھی۔بظاہر ایک نادان توریت کو دیکھ کر دھو کہ میں پڑے گا کہ توریت میں توحید بھی موجود ہے اور احکام عبادت اور حقوق عباد کا بھی ذکر ہے۔پھر کونسی نئی چیز ہے جو قرآن کے ذریعہ سے بیان کی گئی۔مگر یہ دھوکا اُسی کو لگے گا جس نے کلام الہی میں کبھی تدبیر نہیں کیا۔واضح ہو کہ الہیات کا بہت سا حصہ ایسا ہے کہ توریت میں اس کا نام ونشان نہیں۔چنانچہ توریت میں توحید کے باریک مراتب کا کہیں ذکر نہیں۔قرآن ہم پر ظاہر فرماتا ہے کہ تو حید صرف اس بات کا نام نہیں کہ ہم بتوں اور انسانوں اور حیوانوں اور عناصر اور اجرام فلکی اور شیاطین کی پرستش سے باز رہیں بلکہ توحید تین درجہ پر منقسم ہے۔درجہ اول عوام کے لئے یعنی اُن کے لئے جو خدا تعالیٰ کے غضب سے نجات پانا چاہتے ہیں۔دوسرا درجہ خواص کے لئے یعنی اُن کے لئے جو عوام کی نسبت زیادہ تر قرب الہی کے ساتھ خصوصیت پیدا کرنی چاہتے ہیں۔اور تیسرا درجہ خواص الخواص کے لئے جو قرب کے کمال تک پہنچنا چاہتے ہیں۔اوّل مرتبہ توحید کا تو یہی ہے کہ غیر اللہ کی پرستش نہ کی جائے اور ہر ایک چیز جو محدود اور مخلوق معلوم ہوتی ہے خواہ زمین پر ہے خواہ آسمان پر اس کی پرستش سے کنارہ کیا جائے۔دوسرا مرتبہ تو حید کا یہ ہے کہ اپنے اور دوسروں کے تمام کاروبار میں مؤثر حقیقی خدا تعالیٰ کو سمجھا جائے اور اسباب پر اتنا زور نہ دیا جائے جس سے وہ خدا تعالیٰ کے شریک ٹھہر جائیں مثلاً یہ کہنا کہ زید نہ ہوتا تو میرا یہ نقصان ہوتا اور بکر نہ ہوتا تو میں تباہ ہو جاتا۔اگر یہ کلمات اس نیت سے کہے جائیں کہ جس سے