حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 593
۵۹۳ ظلّی طور پر رسالت کی تمام نعمتیں موجود ہوں اور جن کو وہ تمام برکات دی گئی ہوں جو نبیوں کو دی جاتی ہیں۔جیسا کہ ان آیات میں اسی امر عظیم کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ آمَنَّا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُوْنَ بِي شَيْئًا وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُوْنَ - پس یہ آیت در حقیقت اس دوسری آیت إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ " کے لئے بطور تفسیر کے واقع ہے اور اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ حفاظت قرآن کیونکر اور کس طور سے ہوگی۔سوخدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہوں گا۔شہادت القرآن۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۳۸ ،۳۳۹) وہ یقینی اور کامل اور آسان ذریعہ کہ جس سے بغیر تکلیف اور مشقت اور مزاحمت شکوک اور شبہات اور خطا اور سہو کے اصول صحیحہ معہ اُن کی دلائل عقلیہ کے معلوم ہو جائیں اور یقین کامل سے معلوم ہوں وہ قرآن شریف ہے اور بجز اس کے دنیا میں کوئی ایسی کتاب نہیں اور نہ کوئی ایسا دوسرا ذریعہ ہے کہ جس سے یہ مقصد اعظم ہمارا پورا ہو سکے۔( براہین احمدیہ ہر چہار ص۔روحانی خزائن جلد اصفحہ ۷۷ ) اب اے صاحبو! میں یہ بیان کرتا ہوں کہ وہ امتیازی نشان کہ جو الہامی کتاب کی شناخت کے لئے عقل سلیم نے قرار دیا ہے وہ صرف خدا تعالیٰ کی مقدس کتاب قرآن شریف میں پایا جاتا ہے اور اس زمانہ میں وہ تمام خوبیاں جو خدا کی کتاب میں امتیازی نشان کے طور پر ہونی چاہئیں دوسری کتابوں میں قطعاً مفقود ہیں۔ممکن ہے کہ ان میں وہ خوبیاں پہلے زمانہ میں ہوں گی مگر اب نہیں ہیں اور گو ہم ایک دلیل سے جو ہم پہلے لکھ چکے ہیں ان کو الہامی کتابیں سمجھتے ہیں مگر وہ گو الہامی ہوں لیکن اپنی موجودہ حالت کے لحاظ سے بالکل بے سود ہیں اور اس شاہی قلعہ کی طرح ہیں جو خالی اور ویران پڑا ہے اور دولت اور فوجی طاقت سب اس میں سے کوچ کرگئی ہے۔( مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۰۲) اگر کوئی مخالفین اسلام میں سے یہ اعتراض کرے کہ قرآن شریف کو سب الہامی کتابوں سے افضل النور : ۵۶ الحجر: ١٠