حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 591 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 591

۵۹۱ (۷) ایسے مفردات کا نظام جو مخالفین کے تمام عقائد باطلہ کا رڈ کرتے ہیں۔(۸) ایسے مفردات کا نظام جو انذارا اور تبشیر اور وعد اور وعید اور عالم معاد کے بیان کے رنگ میں یا معجزات کی صورت میں یا مثالوں کے طور پر یا ایسی پیشگوئیوں کی صورت میں جو موجب زیادتِ ایمان یا اور مصالح پر مشتمل ہوں یا ایسے قصوں کی طرز میں جو تنبیہ یا ڈرانے یا خوشخبری دینے کی غرض سے ہوں مرتب کیا گیا ہے۔(1) ایسے مفردات کا نظام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح اور پاک صفات اور آنجناب کی پاک زندگی کے اعلی نمونہ پر مشتمل ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل کا ملہ بھی ہیں۔(۱۰) ایسے مفردات کا نظام جو قرآن کریم کے صفات اور تاثیرات اور اس کے ذاتی خواص کو بیان کرتے ہیں۔یہ دن نظام وہ ہیں جو اپنے کمال تام کی وجہ سے دس دائروں کی طرح قرآن میں پائے جاتے ہیں جن کو دوائر عشرہ سے موسوم کر سکتے ہیں۔ان دس دائروں میں خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایسے پاکیزہ اور باہمی امتیاز رکھنے والے مفردات سے کام لیا ہے جو عقل سلیم فی الفور گواہی دیتی ہے کہ یہ اکمل اور اتم سلسلہ مفردات کا اسی لئے عربی میں مقرر کیا گیا تھا کہ تا قرآن کا خادم ہو۔یہی وجہ ہے کہ یہ سلسلہ مفردات کا قرآن کریم کی تعلیمی نظام سے جو اکمل اور اتم ہے بالکل مطابق آ گیا لیکن دوسری زبانوں کے مفردات کا سلسلہ ان کتابوں کے تعلیمی نظام سے ہرگز مطابق نہیں آتا جو الہی کتابیں کہلاتی ہیں اور جن کا ان زبانوں میں نازل ہونا بیان کیا گیا ہے اور نہ دوائر عشرہ مذکورہ ان کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔پس ان کتابوں کے ناقص ہونے کی وجوہ سے یہ بھی ایک بھاری وجہ ہے کہ وہ دوائر ضرور یہ سے بے بہرہ اور نیز زبان کے مفردات ان کتابوں کی تعلیم سے وفا نہیں کر سکے اور اس میں بھید یہی ہے کہ وہ کتا بیں حقیقی کتا بیں نہیں تھیں بلکہ وہ صرف چند روزہ کا رروائی تھی حقیقی کتاب دنیا میں ایک ہی آئی جو ہمیشہ کے لئے انسانوں کی بھلائی کے لئے تھی۔لہذا وہ دوائر عشرہ کاملہ کے ساتھ نازل ہوئی اور اس کے مفردات کا نظام تعلیمی نظام کا بالکل ہم وزن اور ہم پلہ تھا اور ہر یک دائرہ اس کا دوائر عشرہ میں سے اپنے طبیعی نظام کے اندازہ اور قدر پر مفردات کا نظام ساتھ رکھتا تھا جس میں الہی صفات کے اظہار کے لئے اور اقسام اربعہ مذکورہ کے مدارج بیان کرنے کی غرض سے الگ الگ الفاظ مفردہ مقرر تھے اور ہر یک تعلیم کے دائرہ کے موافق