حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 590 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 590

۵۹۰ اُمت کے لئے کھلی ہے۔ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وارث حقیقی کوئی نہ رہے۔بركات الدعاء۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ ۱۷ تا ۲۱) یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ہم الہی کلام کی کسی آیت میں تغییر اور تبدیل اور تقدیم اور تا خیر اور فقرات تراشی کے مجاز نہیں ہیں۔مگر صرف اس صورت میں کہ جب خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہو اور یہ ثابت ہو جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ بذات خود ایسی تغییر اور تبدیل کی ہے اور جب تک ایسا ثابت نہ ہو تو ہم قرآن کی ترصیع اور ترتیب کو زیر وزبر نہیں کر سکتے اور نہ اس میں اپنی طرف سے بعض فقرات ملا سکتے ہیں اور اگر ایسا کریں تو عند اللہ مجرم اور قابل مواخذہ ہیں۔(اتمام الحجة - روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۹۱) اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ قرآن کریم دس قسم کے نظام مفردات پر مشتمل ہے۔(۱) ایسے مفردات کا نظام جن میں بیان وجود باری اور دلائل وجود باری اور نیز خدا تعالیٰ کی ایسے صفات اور اسماء اور افعال اور سنن اور عادات کا بیان ہے کہ جو باہمی امتیازوں کے ساتھ اللہ جل شانه کی ذات سے مخصوص ہیں۔اور نیز وہ کلمات جو اس کی اس کامل مدح اور ثنا کے متعلق ہیں جو بیان جلال اور جمال اور عظمت اور کبریائی کے بارے میں ہیں۔(۲) اُن مفردات کا نظام جو تو حید باری اور دلائل توحید باری پر (۳) اُن مفردات کا نظام جن میں وہ صفات اور افعال اور اعمال اور عادات اور کیفیات روحانیہ یا نفسانیہ بیان کی گئی ہیں جو باہمی امتیازوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے سامنے اس کی مرضی کے موافق یا خلاف مرضی بندوں سے صادر ہوتی ہیں یا ظہور و بروز میں آتی ہیں۔مشتمل ہیں۔(۴) ان مفردات کا نظام جو وصایا اور تعلیم اخلاق اور عقائد اور حقوق اللہ اور حقوق العباد اور علوم حکمیہ اور حدود اور احکام اور اوامر اور نہی اور حقائق و معارف کے رنگ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے کامل ہدایتیں ہیں۔(۵) ان مفردات کا نظام جن میں بیان کیا گیا ہے کہ نجات حقیقی کیا شے ہے اور اُس کے حصول کے لئے حقیقی وسائل اور ذرائع کیا کیا ہیں اور نجات یافتہ مومنوں اور مقربوں کے آثار اور علامات کیا ہیں۔(1) اُن مفردات کا نظام جن میں بیان کیا گیا ہے کہ اسلام کیا شے ہے اور کفر اور شرک کیا شے ہے اور اسلام کی حقیت پر دلائل اور نیز اعتراضات کی مدافعت ہے۔