حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 589
۵۸۹ حاصل کرنے والے اور علم نبوت کے پہلے وارث تھے اور خدا تعالیٰ کا اُن پر بڑا فضل تھا۔اور نصرت الہی اُن کی قوت مدرکہ کے ساتھ تھی کیونکہ اُن کا نہ صرف قال بلکہ حال تھا۔چوتھا معیار خود اپنا نفس مطہر لے کر قرآن کریم میں غور کرنا ہے۔کیونکہ نفس مطہرہ سے قرآن کریم کو مناسبت ہے اللہ جل شانہ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ لا یعنی قرآن کریم کے حقائق صرف اُن پر کھلتے ہیں جو پاک دل ہوں۔کیونکہ مطہر القلب انسان پر قرآن کریم کے پاک معارف بوجہ مناسبت کھل جاتے ہیں اور وہ اُن کو شناخت کر لیتا ہے۔اور سونگھ لیتا ہے اور اُس کا دل بول اُٹھتا ہے کہ ہاں یہی راہ کچی ہے اور اُس کا نور قلب سچائی کی پرکھ کے لئے ایک عمدہ معیار ہوتا ہے۔پس جب تک انسان صاحب حال نہ ہو اور اس تنگ راہ سے گذرنے والا نہ ہو جس سے انبیاء علیہم السلام گذرے ہیں تب تک مناسب ہے کہ گستاخی اور تکبر کی جہت سے مفسر القرآن نہ بن بیٹھے ورنہ وہ تفسیر بالرائے ہوگی جس سے نبی علیہ السلام نے منع فرمایا ہے اور کہا ہے کہ مَنْ فَسَّرَ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ فَأَصَابَ فَقَدْ أَخْطَأَ یعنی جس نے صرف اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کی اور اپنے خیال میں اچھی کی تب بھی اُس نے بُری تفسیر کی۔پانچواں معیار لغت عرب بھی ہے۔لیکن قرآن کریم نے اپنے وسائل آپ اس قدر قائم کر دیئے ہیں کہ چنداں لغات عرب کی تفتیش کی حاجت نہیں۔ہاں موجب زیادتِ بصیرت بے شک ہے بلکہ بعض اوقات قرآن کریم کے اسرار مخفیہ کی طرف لغت کھودنے سے توجہ پیدا ہو جاتی ہے اور ایک بھید کی بات نکل آتی ہے۔چھٹا معیار روحانی سلسلہ کے سمجھنے کے لئے سلسلہ جسمانی ہے کیونکہ خدا وند تعالیٰ کے دونوں سلسلوں میں بکلی تطابق ہے۔ساتواں معیار وحی کولایت اور مکاشفات محدثین ہیں اور یہ معیار گویا تمام معیاروں پر حاوی ہے کیونکہ صاحب وحی محدثیت اپنے نبی متبوع کا پورا ہمرنگ ہوتا ہے اور بغیر نبوت اور تجدید احکام کے وہ سب باتیں اس کو دی جاتی ہیں جو نبی کو دی جاتی ہیں اور اس پر یقینی طور پر سچی تعلیم ظاہر کی جاتی ہے اور نہ صرف اس قدر بلکہ اُس پر وہ سب امور بطور انعام اکرام کے وارد ہو جاتے ہیں جو نبی متبوع پر وارد ہوتے ہیں۔سو اس کا بیان محض انکلیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ دیکھ کر کہتا ہے اور سن کر بولتا ہے اور یہ راہ اس الواقعة: ٨٠