حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 588 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 588

۵۸۸ کے لئے ضروری ہے کہ اس کا عجائبات غیر محدود اور نیز بے مثل ہوں اور اگر یہ اعتراض ہو کہ اگر قرآن کریم میں ایسے عجائبات اور خواص مخفیہ تھے تو پہلوں کا کیا گناہ تھا کہ اُن کو ان اسرار سے محروم رکھا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بکلی اسرار قرآنی سے محروم تو نہیں رہے بلکہ جس قدر معلومات عرفانیہ خدا تعالیٰ کے ارادہ میں اُن کے لئے بہتر تھے وہ ان کو عطا کئے گئے اور جس قدر اس زمانہ کی ضرورتوں کے موافق اس زمانہ میں اسرار ظاہر ہونے ضروری تھے وہ اس زمانہ میں ظاہر کئے گئے مگر وہ باتیں جو مدار ایمان ہیں اور جن کے قبول کرنے اور جاننے سے ایک شخص مسلمان کہلا سکتا ہے۔وہ ہر زمانہ میں برابر طور پر شائع ہوتی رہیں۔میں متعجب ہوں کہ ان ناقص الفہم مولویوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ خدا تعالیٰ پر یہ حق واجب ہے کہ جو کچھ آئندہ زمانہ میں بعض آلاء ونعماء حضرت باری عزّ اسمۂ ظاہر ہوں پہلے زمانہ میں بھی اُن کا ظہور ثابت ہو۔کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۶۰ تا ۶۲) جاننا چاہئے کہ سب سے اوّل معیار تفسیر صحیح کا شواہد قرآنی ہیں۔یہ بات نہایت توجہ سے یا د رکھنی چاہئے کہ قرآن کریم اور معمولی کتابوں کی طرح نہیں جو اپنی صداقتوں کے ثبوت یا انکشاف کے لئے دوسرے کا محتاج ہو۔وہ ایک ایسی متناسب عمارت کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ ہلانے سے تمام عمارت کی شکل بگڑ جاتی ہے۔اس کی کوئی صداقت ایسی نہیں ہے جو کم سے کم دس یا ہیں شاہد اُس کے خود اُسی میں موجود نہ ہوں۔سو اگر ہم قرآن کریم کی ایک آیت کے ایک معنے کریں تو ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ان معنوں کی تصدیق کے لئے دوسرے شواہد قرآن کریم سے ملتے ہیں یا نہیں۔اگر دوسرے شواہد دستیاب نہ ہوں بلکہ ان معنے کی دوسری آیتوں سے صریح معارض پائے جاویں تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ وہ معنے بالکل باطل ہیں کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآن کریم میں اختلاف ہو اور سچے معنوں کی یہی نشانی ہے کہ قرآن کریم میں سے ایک لشکر شواہد پینہ کا اس کا مصدق ہو۔دوسرا معیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ سب سے زیادہ قرآن کریم کے معنے سمجھنے والے ہمارے پیارے اور بزرگ نبی حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔پس اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی تفسیر ثابت ہو جائے تو مسلمان کا فرض ہے کہ بلا توقف اور بلا دغدغہ قبول کرے۔نہیں تو اس میں الحاد اور فلسفیت کی رگ ہو گی۔تیسرا معیار صحابہ کی تفسیر ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم آنحضرت کے نوروں کو