حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 587
۵۸۷ مشتمل خدا تعالی کی ہر یک مخلوق میں پائی جاتی ہے مثلاً اگر ایک درخت کے پتے کی عجائبات کی ہزار برس تک بھی تحقیقات کی جائے تو وہ ہزار برس ختم ہو جائے گا مگر اس پتے کے عجائبات ختم نہیں ہوں گے اور اس میں ستر یہ ہے کہ جو چیز غیر محدود قدرت سے وجود پذیر ہوئی ہے اس میں غیر محدود عجائبات اور خواص کا پیدا ہونا ایک لازمی اور ضروری امر ہے اور یہ آیت کہ قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّيٌّ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا اپنے ایک معنے کی رُو سے اسی امر کی مؤید ہے کیونکہ مخلوقات اپنے مجازی معنوں کی رُو سے تمام کلمات اللہ ہی ہیں۔۔۔سو ان معنوں کے رو سے اس آیت کا یہی مطلب ہوا کہ خواص مخلوقات بے حد اور بے نہایت ہیں اور جبکہ ہر یک چیز اور ہر یک مخلوق کے خواص بے حد اور بے نہایت ہیں اور ہر یک چیز غیر محدود عجائبات پرشت ہے تو پھر کیونکر قرآن کریم جو خدا تعالیٰ کا پاک کلام ہے صرف ان چند معانی میں محدود ہو گا کہ جو چالیس پچاس یا مثلاً ہزار جزو کی کسی تفسیر میں لکھے ہوں یا جس قدر ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک زمانہ محدود میں بیان کئے ہوں نہیں بلکہ ایسا کلمہ مُنہ پر لانا میرے نزدیک قریب قریب کفر کے ہے اگر عمداً اس پر اصرار کیا جائے تو اندیشہ کفر ہے۔یہ بیچ ہے کہ جو کچھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے معنے بیان فرمائے ہیں وہی صحیح اور حق ہیں۔مگر یہ ہرگز سچ نہیں کہ جو کچھ قرآن کریم کے معارف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے اُن سے زیادہ قرآن کریم میں کچھ بھی نہیں۔یہ اقوال ہمارے مخالفوں کے صاف دلالت کر رہے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی غیر محدودہ عظمتوں اور خوبیوں پر ایمان نہیں لاتے اور ان کا یہ کہنا کہ قرآن کریم ایسوں کے لئے اُترا ہے جو امی تھے اور بھی اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ وہ قرآن شناسی کی بصیرت سے بکلی بے بہرہ ہیں وہ نہیں سمجھتے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محض امیوں کے لئے نہیں بھیجے گئے بلکہ ہر یک رتبہ اور طبقہ کے انسان ان کی امت میں داخل ہیں۔الله جلّ شانہ فرماتا ہے۔قُلْ يَايُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ اِلَيْكُمْ جَمِيعًا ت پر اس آیت سے ثابت ہے کہ قرآن کریم ہر یک استعداد کی تکمیل کے لئے نازل ہوا ہے اور درحقیقت آیت وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ البِ سے میں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔پس یہ خیال کہ گویا جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے بارہ میں بیان فرمایا اس سے بڑھ کر ممکن نہیں بدیہی البطلان ہے۔ہم نہایت قطعی اور یقینی دلائل سے ثابت کر چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کلام الكهف : ١١٠ الاعراف : ۱۵۹ الاحزاب : ۴۱