حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 586
۵۸۶ پائے جاتے ہیں اور دوسرے تمام فرقے کہ جو حقیقی اور پاک الہام سے روگردان ہیں کیا برہمو اور کیا آریہ اور کیا عیسائی وہ اس نور صداقت سے بے نصیب اور بے بہرہ ہیں۔چنانچہ ہر یک منکر کی تسلی کرنے کے لئے ہم ہی ذمہ اُٹھاتے ہیں بشرطیکہ وہ سچے دل سے اسلام قبول کرنے پر مستعد ہو کر پوری پوری ارادت اور استقامت اور صبر اور صداقت سے طلب حق کے لئے اس طرف تکلیف کش ہو۔براہین احمدیہ ہر چہار تصص۔روحانی خزائن جلد اصفه۳۵۰ تا ۳۵۲ حاشیہ نمبر۱۱) اور جس قدر قرآن شریف میں قصے ہیں وہ بھی درحقیقت قصے نہیں بلکہ وہ پیشگوئیاں ہیں جو قصوں کے رنگ میں لکھی گئی ہیں۔ہاں وہ توریت میں تو ضرور صرف قصے پائے جاتے ہیں مگر قرآن شریف نے ہر ایک قصہ کو رسول کریم کے لئے اور اسلام کے لئے ایک پیشگوئی قرار دے دیا ہے اور یہ قصوں کی پیشگوئیاں بھی کمال صفائی سے پوری ہوئی ہیں۔غرض قرآن شریف معارف و حقائق کا ایک دریا ہے اور پیشگوئیوں کا ایک سمندر ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی انسان بجز ذریعہ قرآن شریف کے پورے طور پر خدا تعالیٰ پر یقین لا سکے کیونکہ یہ خاصیت خاص طور پر قرآن شریف میں ہی ہے کہ اس کی کامل پیروی سے وہ پر دے جو خدا میں اور انسان میں حائل ہیں سب دور ہو جاتے ہیں۔ہر ایک مذہب والا محض قصہ کے طور پر خدا کا نام لیتا ہے مگر قرآن شریف اس محبوب حقیقی کا چہرہ دکھلا دیتا ہے اور یقین کا نور انسان کے دل میں داخل کر دیتا ہے۔اور وہ خدا جو تمام دنیا پر پوشیدہ ہے وہ محض قرآن شریف کے ذریعہ سے دکھائی دیتا ہے۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۷۲،۲۷۱) قرآن کریم صرف اپنی بلاغت و فصاحت ہی کے رو سے بے نظیر نہیں بلکہ اپنی ان تمام خوبیوں کی رو سے بے نظیر ہے جن خوبیوں کا جامع وہ خود اپنے تئیں قرار دیتا ہے اور یہی صحیح بات بھی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کچھ صادر ہے اُس کی صرف ایک خوبی ہی بے مثل نہیں ہونی چاہئے بلکہ ہر یک خوبی بے مثل ہو گی۔بلاشبہ جو لوگ قرآن کریم کو غیر محدود حقائق اور معارف کا جامع نہیں سمجھتے وہ مَا قَدَرُوا القُرْآنَ حَقَّ قَدْرِہ میں داخل ہیں۔خدا تعالیٰ کی پاک اور سچی کلام کو شناخت کرنے کے لئے یہ ایک ضروری نشانی ہے کہ وہ اپنی جمیع صفات میں بے مثل ہو کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیز خدا تعالیٰ سے صادر ہوئی ہے اگر مثلاً ایک جو کا دانہ ہے وہ بھی بے نظیر ہے اور انسانی طاقتیں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔اور بے مثل ہونا غیر محدود ہونے کو مستلزم ہے یعنی ہر یک چیز اسی حالت میں بے نظیر ٹھہر سکتی ہے جبکہ اس کی عجائبات اور خواص کی کوئی حد اور کنارہ نظر نہ آوے اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں یہی خاصیت