حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 580
۵۸۰ ہا فرماوے۔اسی صفت ثانی کی رُو سے کہا گیا ہے کہ جو ڈھونڈتا ہے پاتا ہے جو مانگتا ہے اس کو دیا جاتا ہے جو کھٹکھٹاتا ہے اُس کے واسطے کھولا جاتا ہے۔۔یہ شبہ کرنا کہ یہ استعانت بعض اوقات کیوں بے فائدہ اور غیر مفید ہوتی ہے اور کیوں خدا کی رحمانیت و رحیمیت ہر یک وقت استعانت میں بجلی نہیں فرماتی۔پس یہ شبہ صرف ایک صداقت کی غلط نہی ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ ان دعاؤں کو کہ جو خلوص کے ساتھ کی جائیں ضرور سنتا ہے اور جس طرح مناسب ہو مدد چاہنے والوں کے لئے مدد بھی کرتا ہے۔مگر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کی استمداد اور دُعا میں خلوص نہیں ہوتا نہ انسان دلی عاجزی کے ساتھ امداد الہی چاہتا ہے اور نہ اس کی روحانی حالت درست ہوتی ہے۔بلکہ اُس کے ہونٹوں میں دعا اور اُس کے دل میں غفلت یا ریاء ہوتی ہے یا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا اس کی دُعا کوسن تو لیتا ہے اور اس کے لئے جو کچھ اپنی حکمت کاملہ کے رُو سے مناسب اور اصلح دیکھتا ہے عطا بھی فرماتا ہے لیکن نادان انسان خدا کی ان الطاف خفیہ کو شناخت نہیں کرتا اور باعث اپنے جہل اور بے خبری کے شکوہ اور شکایت شروع کر دیتا ہے اور اس آیت کے مضمون کو نہیں سمجھتا عَلَی اَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرُ لَّكُمْ وَعَلَى أَنْ تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ لا یعنی یہ ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو بُری سمجھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے اچھی ہو۔اور ممکن ہے کہ تم ایک چیز کو دوست رکھو اور وہ اصل میں تمہارے لئے بُری ہو۔اور خدا چیزوں کی اصل حقیقت کو جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔اب ہماری اس تمام تقریر سے واضح ہے کہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ کس قدر عالی شان صداقت ہے جس میں حقیقی تو حید اور عبودیت اور خلوص میں ترقی کرنے کا نہایت عمدہ سامان موجود ہے جس کی نظیر کسی اور کتاب میں نہیں پائی جاتی۔اور اگر کسی کے زعم میں پائی جاتی ہے تو وہ اس صداقت کو معہ تمام دوسری صداقتوں کے جو ہم نیچے لکھتے ہیں نکال کر پیش کرے۔اس جگہ بعض کو نہ اندیش اور نادان دشمنوں نے ایک اعتراض بھی بسم اللہ کی بلاغت پر کیا ہے۔ان معترضین میں سے ایک صاحب تو پادری عماد الدین نام ہیں جس نے اپنی کتاب ہدایت المسلمین میں اعتراض مندرجہ ذیل لکھا ہے۔دوسرے صاحب باوا نرائن سنگھ نام وکیل امرتسری ہیں جنہوں نے پادری کے اعتراض کو سچ سمجھ کر اپنے دلی عناد کے تقاضا کی وجہ سے وہی پوچ اعتراض اپنے رسالہ و ڈ یا پر کا شک میں درج کر دیا ہے۔سو ہم اس اعتراض کو معہ جواب اس کے کے لکھنا مناسب سمجھتے ہیں تا منصفین کو البقرة : ۲۱۷