حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 560 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 560

اور بغیر تحقق وجود ان آثار و علامات کے وجود اس چیز کا متفق نہیں ہوسکتا۔اور جیسا کہ ہم بار ہا لکھ چکے ہیں تحقق نجات کے لئے یہ علامات خاصہ ہیں کہ انقطاع الی اللہ اور غلبہ ء حب الہی اس قدر کمال کے درجہ تک پہنچ جائے کہ اس شخص کی صحبت اور توجہ اور دعا سے بھی یہ امور دوسرے ذی استعداد لوگوں میں پیدا ہوسکیں اور خود وہ اپنی ذاتی حالت میں ایسا منور الباطن ہو کہ اس کی برکات طالب حق کی نظر میں بد یہی الظہو ر ہوں اور اس میں وہ تمام خصوصیات اور مخاطبات حضرت احدیت پائی جائیں کہ جو مقربین میں پائی جاتی ہیں۔اس جگہ کوئی شخص نجومیوں اور جوتشیوں وغیرہ غیب گویوں کی پیشگوئیوں پر دھوکہ نہ کھاوے اور بخوبی یادر کھے کہ ان لوگوں کو اہل اللہ کے انوار اور برکات سے کچھ بھی مناسبت نہیں۔ہم پہلے بھی لکھ چکے کہ قادرانہ پیشگوئیاں اور کریمانہ مواعید کہ جو حق محض ہیں اور جن میں سراسر فتح اور نصرت کی بشارتیں اور اقبال اور عزت کی خبریں بھری ہوئی ہیں۔ان سے انسانی آلات کو کچھ بھی نسبت نہیں۔خداوند تعالیٰ نے اہل اللہ کو ایسی فطرت بخشی ہے کہ ان کی نظر اور صحبت اور توجہ اور دُعا اکسیر کا حکم رکھتی ہے بشرطیکہ شخص مستفیض میں قابلیت موجود ہو۔اور ایسے لوگ صرف پیشگوئیوں سے نہیں بلکہ اپنے خزائن معرفت سے اپنی تو کل خارق عادت سے اپنی کامل محبت سے اپنے انقطاع تام سے اپنے صدق اور ثبات سے اپنے انس باللہ اور شوق اور ذوق سے اور اپنے غلبہ خشوع اور خضوع سے اور اپنے تزکیۂ نفس سے اور اپنی ترک محبت دنیا سے اور اپنی کثیر الوجود برکتوں سے کہ جو بارش کی طرح برستی ہیں۔اور اپنے موید من اللہ ہونے سے اور اپنی بے مثل استقامت اور اعلیٰ درجہ کی وفاداری اور لاثانی تقویٰ اور طہارت ر عظیم الشان ہمت اور انشراح صدر سے شناخت کئے جاتے ہیں اور پیشگوئیاں ان کا اصل منصب نہیں ہے۔بلکہ وہ اس غرض سے ہے کہ تا وہ ان برکتوں کو جو اُن پر اور اُن کے متعلقین پر وارد ہونے کو ہیں قبل از وقوع بیان کر کے توجہ خاص حضرت احدیت پر یقین دلا ئیں۔اور نیز وہ مخاطبات اور مکالمات جو حضرت احدیت کی طرف سے اُن کو ہوتے ہیں اُن کی صحت اور منجانب اللہ ہونے پر ایک قطعی اور یقینی حجت پیش کریں اور ایسے انسان جن کو یہ سب برکات قدسیہ بکثرت عطا ہوتی ہیں اُن کی نسبت خدا کی قدرت اور حکمت قدیمہ کے قانون میں یہی قرار پایا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے سچے اور پاک عقائد ہوں اور جو بچے مذہب پر ثابت اور مستقیم ہوں اور حضرت احدیت سے غایت درجہ کا اتصال اور دنیا و مافیہا سے غایت درجہ کا انقطاع رکھتے ہوں۔ایسے لوگ کبریت احمر کا حکم رکھتے ہیں اور اُن کی فطرت کو ربانی انوار اور حقانی مذہب لازم ہے اور ان کی ذات ستودہ صفات کو کہ جو جامع البرکات ہے اور