حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 559 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 559

۵۵۹ معارف حقہ کا بیان اس میں بھرا ہوا ہے اور کوئی دقیقہ علم الہی نہیں کہ جو آئندہ کسی وقت ظاہر ہوسکتا ہے اور اس سے باہر رہ گیا ہو۔اور باطنی طریق سے اس طور پر کہ اس کی کامل متابعت دل کو ایسا صاف کر دیتی ہے کہ انسان اندرونی آلودگیوں سے بالکل پاک ہو کر حضرتِ اعلیٰ سے اتصال پکڑ لیتا ہے اور انوار قبولیت اُس پر وارد ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور عنایات الہیہ اس قدر اس پر احاطہ کر لیتی ہیں کہ جب وہ مشکلات کے وقت دُعا کرتا ہے تو کمال رحمت اور عطوفت سے خدا وند کریم اس کا جواب دیتا ہے اور بسا اوقات ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ اگر وہ ہزار مرتبہ ہی اپنی مشکلات اور ہجوم غموں کے وقت میں سوال کرے تو ہزار ہا مرتبہ ہی اپنے مولیٰ کریم کی طرف سے نہایت فصیح اور لذیذ اور متبرک کلام میں محبت آمیز جواب پاتا ہے اور الہام الہی بارش کی طرح اس پر برستا ہے اور وہ اپنے دل میں محبت الہیہ کو ایسا بھرا ہوا پاتا ہے جیسا ایک نہایت صاف شیشہ ایک لطیف عطر سے بھرا ہوتا ہے۔اور انس اور شوق کی ایک ایسی پاک لذت اس کو عطا کی جاتی ہے کہ جو اُس کے سخت سخت نفسانی زنجیروں کو تو ڑ کر اور اِس دُخانستان سے باہر نکال کر محبوب حقیقی کی ٹھنڈی اور دل آرام ہوا سے اس کو ہر دم اور ہر لحظہ تازہ زندگی بخشتی رہتی ہے۔پس وہ اپنی وفات سے پہلے ہی ان عنایات الہیہ کو بچشم خود دیکھ لیتا ہے جن کے دیکھنے کے لئے دوسرے لوگ بعد مرنے کے اُمید میں باندھتے ہیں۔اور یہ سب نعمتیں کسی راہبانہ محنت اور ریاضت پر موقوف نہیں بلکہ صرف قرآن شریف کے کامل اتباع سے دی جاتی ہیں اور ہر ایک طالب صادق ان کو پاسکتا ہے۔ہاں اُن کے حصول میں خاتم الرسل اور فخر الرسل کی بدرجہ کامل محبت بھی شرط ہے۔تب بعد محبت نبی اللہ کے انسان ان نوروں میں سے بقدر استعداد خود حصہ پالیتا ہے کہ جو کامل طور پر نبی اللہ کو دی گئی ہیں۔پس طالب حق کے لئے اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں کہ وہ کسی صاحب بصیرت اور معرفت کے ذریعہ سے خود اس دین متین میں داخل ہو کر اور اتباع کلام الہی اور محبت رسول مقبول اختیار کر کے ہمارے ان بیانات کی حقیت کو بچشم خود دیکھ لے اور اگر وہ اس غرض کے حصول کے لئے ہماری طرف بصدق دل رجوع کرے تو ہم خدا کے فضل اور کرم پر بھروسہ کر کے اُس کو طریق اتباع بتلانے کو طیار ہیں پر خدا کا فضل اور استعداد ذاتی درکار ہے۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کچی نجات کچی تندرستی کی مانند ہے پس جیسی بچی تندرستی وہ ہے کہ جس میں تمام آثار تندرستی کے ظاہر ہوں اور کوئی عارضہ منافی اور مغائر تندرستی کا لاحق نہ ہو اسی طرح کچی نجات بھی وہی ہے کہ جس میں حصول نجات کے آثار بھی پائے جائیں کیونکہ جس چیز کا واقعی طور پر وجود تحقیق ہو۔اس وجود تحقیق کے لئے آثار و علامات کا پائے جانا لازم پڑا ہوا ہے