حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 556 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 556

زبان چل سکتی ہے مگر جو تجر بہ صحیحہ کا تنگ دروازہ ہے اُس دروازہ سے سلامت نکلنے والے یہی لوگ ہیں۔اور دوسرے لوگ اگر کچھ اخلاق فاضلہ ظاہر کرتے بھی ہیں تو تکلف اور تصنع سے ظاہر کرتے ہیں اور اپنی آلودگیوں کو پوشیدہ رکھ کر اور اپنی بیماریوں کو چھپا کر اپنی جھوٹی تہذیب دکھلاتے ہیں اور ادنی ادنی امتحانوں میں اُن کی قلعی کھل جاتی ہے اور تکلف اور تصنع اخلاق فاضلہ کے ادا کرنے میں اکثر وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اپنی دُنیا اور معاشرت کا حسن انتظام وہ اسی میں دیکھتے ہیں۔اور اگر اپنی اندرونی آلائشوں کی ہر جگہ پیروی کریں تو پھر مہمات معاشرت میں خلل پڑتا ہے۔اور اگر چہ بقدر استعداد فطرتی کے کچھ تم اخلاق کا اُن میں بھی ہوتا ہے مگر وہ اکثر نفسانی خواہشوں کے کانٹوں کے نیچے دبا رہتا ہے اور بغیر آمیزش اغراض نفسانی کے خالص اللہ ظاہر نہیں ہوتا چہ جائیکہ اپنے کمال کو پہنچے۔اور خالص اللہ انہیں میں وہ تخم کمال کو پہنچتا ہے کہ جو خدا کے ہو رہتے ہیں اور جن کے نفوس کو خدائے تعالی غیریت کی لوث سے بکلی خالی پا کر خود اپنے پاک اخلاق سے بھر دیتا ہے اور اُن کے دلوں میں وہ اخلاق ایسے پیارے کر دیتا ہے جیسے وہ اس کو آپ پیارے ہیں۔پس وہ لوگ فانی ہونے کی وجہ سے تخلق باخلاق اللہ کا ایسا مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں کہ گویا وہ خدا کا ایک آلہ ہو جاتے ہیں جس کی توسط سے وہ اپنے اخلاق ظاہر کرتا ہے اور اُن کو بھو کے اور پیاسے پا کر وہ آب زلال ان کو اپنے اُس خاص چشمہ سے پلاتا ہے جس میں کسی مخلوق کو علی وجہ الا صالت اس کے ساتھ شرکت نہیں۔اور منجملہ اُن عطیات کے ایک کمال عظیم جو قرآن شریف کے کامل تابعین کو دیا جاتا ہے عبودیت ہے۔یعنی وہ باوجود بہت سے کمالات کے ہر وقت نقصان ذاتی اپنا پیش نظر رکھتے ہیں اور بشہود کبریائی حضرت باری تعالی ہمیشہ تذلل اور نیستی اور انکسار میں رہتے ہیں۔اور اپنی اصل حقیقت ذلت اور مفلسی اور ناداری اور پُر تقصیری اور خطاواری سمجھتے ہیں۔اور ان تمام کمالات کو جو ان کو دیئے گئے ہیں اس عارضی روشنی کی مانند سمجھتے ہیں جو کسی وقت آفتاب کی طرف سے دیوار پر پڑتی ہے جس کو حقیقی طور پر دیوار سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہوتا اور لباس مستعار کی طرح معرض زوال میں ہوتی ہے۔پس وہ تمام خیر و خوبی خدا ہی میں محصور رکھتے ہیں اور تمام نیکیوں کا چشمہ اُسی کی ذات کامل کو قرار دیتے ہیں اور صفات الہیہ کے کامل شہود سے اُن کے دل میں حق الیقین کے طور پر بھر جاتا ہے کہ ہم کچھ چیز نہیں ہیں۔یہاں تک کہ وہ اپنے وجود اور ارادہ اور خواہش سے بکلی کھوئے جاتے ہیں۔اور عظمت الہی کا پُر جوش دریا اُن کے دلوں پر ایسا محیط ہو جاتا ہے کہ ہزار ہا طور کی نیستی اُن پر وارد ہو جاتی ہے اور شرک خفی کے ہر یک رگ وریشہ