حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 557 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 557

سے بکلی پاک اور منزہ ہو جاتے ہیں۔اور منجملہ ان عطیات کے ایک یہ ہے کہ اُن کی معرفت اور خدا شناسی بذریعہ کشوف صادقہ و علوم لدنیہ و الہامات صریحہ و مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت و دیگر خوارق عادت بدرجہ اکمل واتم پہنچائی جاتی ہے۔یہاں تک کہ اُن میں اور عالم ثانی میں ایک نہایت رقیق اور شفاف حجاب باقی رہ جاتا ہے۔جس میں سے ان کی نظر عبور کر کے واقعات اُخروی کو اسی عالم میں دیکھ لیتی ہے برخلاف دوسرے لوگوں کے کہ جو سباعث پر ظلمت ہونے اپنی کتابوں کے اس مرتبہ کاملہ تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے بلکہ اُن کی کجھ تعلیم کتابیں اُن کے حجابوں پر اور بھی صد با حجاب ڈالتے ہیں اور بیماری کو آگے سے آگے بڑھا کر موت تک پہنچاتے ہیں اور فلسفی جن کے قدموں پر آج کل بر ہمو سماج والے چلتے ہیں اور جن کے مذہب کا سارا مدار عقلی خیالات پر ہے وہ خود اپنے طریق میں ناقص ہیں اور اُن کے نقصان پر یہی دلیل کافی ہے کہ اُن کی معرفت باوجود صد با طرح کی غلطیوں کی نظری وجوہ سے تجاوز نہیں کرتی اور قیاسی انکلوں سے آگے نہیں بڑھتی اور ظاہر ہے کہ جس شخص کی معرفت صرف نظری طور پر محدود ہے اور وہ بھی کئی طرح کی خطا کی آلودگیوں سے ملوث۔وہ شخص بمقابلہ اُس شخص کے جس کا عرفان بداہت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے اپنی علمی حالت میں بغایت درجہ پست اور منزل ہے۔ظاہر ہے کہ نظر اور فکر کے مرتبہ کے آگے ایک مرتبہ بداہت اور شہود کا باقی ہے۔یعنی جو امور نظری اور فکری طور پر معلوم ہوتے ہیں وہ ممکن ہیں کہ کسی اور ذریعہ سے بدیہی اور مشہود طور پر معلوم ہوں۔سو یہ مرتبہ بداہت کا عند العقل ممکن الوجود ہے اور گو بر ہمو سماج والے اس مرتبہ کے وجود فی الخارج سے انکار ہی کریں پر اس بات سے انہیں انکار نہیں کہ وہ مرتبہ اگر خارج میں پایا جاوے تو بلاشبہ اعلیٰ واکمل ہے اور جو نظر اور فکر میں خفا یا باقی رہ جاتے ہیں ان کا ظہور اور بروز اِسی مرتبہ پر موقوف ہے۔اور خود اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ ایک امر کا بدیہی طور پر کھل جانا نظری طور سے اعلیٰ اور اکمل ہے مثلاً اگر چہ مصنوعات کو دیکھ کر دانا اور سلیم الطبع انسان کا اس طرف خیال آ سکتا ہے کہ ان چیزوں کا کوئی صانع ہو گا۔مگر نہایت بدیہی اور روشن طریق معرفت الہی کا جو اُس کے وجود پر بڑی ہی مضبوط دلیل ہے یہ ہے کہ اُس کے بندوں کو الہام ملتا ہے اور قبل اس کے جو حقائق اشیاء کا انجام کھلے اُن پر کھولا جاتا ہے اور وہ اپنے معروضات میں حضرت احدیت سے جوابات پاتے ہیں۔اور اُن سے مکالمات اور مخاطبات ہوتے ہیں اور بنظر کشفی اُن کو عالم ثانی کے واقعات دکھلائے جاتے ہیں اور جزا سزا کی حقیقت پر مطلع کیا جاتا ہے اور دوسرے کئی طور کے اسرار اخروی اُن پر کھولے جاتے