حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 555
بے عالم ہیں۔اور با خود ہو کر پھر بے خود ہیں۔نہ عزت سے کام رکھتے ہیں نہ نام سے نہ اپنی جان سے نہ اپنے آرام سے بلکہ سب کچھ ایک کے لئے کھو بیٹھتے ہیں اور ایک کے پانے کے لئے سب کچھ دے ڈالتے ہیں۔لایدرک آتش سے جلتے جاتے ہیں اور کچھ بیان نہیں کر سکتے کہ کیوں جلتے ہیں اور تفہیم اور تقسیم سے صم بکم ہوتے ہیں اور ہر یک مصیبت اور ہر یک رسوائی کے سہنے کو طیار رہتے ہیں اور اُس سے لذت پاتے ہیں ؎ عشق است که برخاک مذلت غلطاند عشق است که بر آتش سوزاں بنشاند کس بہر کسے سرندہد جان نہ فشاند عشق است که این کار بصد صدق کناند لے از انجمله اخلاق فاضلہ ہیں۔جیسے سخاوت، شجاعت، ایثار، علو همت، وفور شفقت حلم، حیا، مودت یہ تمام اخلاق بھی بوجہ احسن اور انسب انہیں سے صادر ہوتے ہیں اور وہی لوگ بہ یمن متابعت قرآن شریف وفاداری سے اخیر عمر تک ہر یک حالت میں ان کو بخوبی و شائستگی انجام دیتے ہیں اورکوئی انقباض خاطر ان کو ایسا پیش نہیں آتا کہ جو اخلاق حسنہ کے كَمَا يَنبَغِی صادر ہونے سے ان کو روک سکے۔اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ خوبی علمی یا عملی یا اخلاقی انسان سے صادر ہو سکتی ہے وہ صرف انسانی طاقتوں سے صادر نہیں ہو سکتی بلکہ اصل موجب اس کے صدور کا فضل الہی ہے۔پس چونکہ یہ لوگ سب سے زیادہ موردِ فضل الہی ہوتے ہیں اس لئے خود خداوند کریم اپنے تفصلات لامتناہی سے تمام خوبیوں سے اُن کو متمتع کرتا ہے۔یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو کہ حقیقی طور پر بجز خدائے تعالیٰ کے اور کوئی نیک نہیں۔تمام اخلاق فاضلہ اور تمام نیکیاں اُسی کے لئے مسلم ہیں۔پھر جس قدر کوئی اپنے نفس اور ارادت سے فانی ہو کر اس ذات خیر محض کا قرب حاصل کرتا ہے اُسی قدرا خلاق الہیہ اس کے نفس پر منعکس ہوتی ہیں۔پس بندہ کو جو جو خوبیاں اور کچی تہذیب حاصل ہوتی ہے وہ خدا ہی کے قرب سے حاصل ہوتی ہے اور ایسا ہی چاہئے تھا کیونکہ مخلوق فی ذاتہ کچھ چیز نہیں ہے۔سو اخلاق فاضلہ الہیہ کا انعکاس انہیں کے دلوں پر ہوتا ہے کہ جولوگ قرآن شریف کا کامل اتباع اختیار کرتے ہیں اور تجربہ صحیحہ بتلا سکتا ہے کہ جس مشرب صافی اور روحانی ذوق اور محبت کے بھرے ہوئے جوش سے اخلاق فاضلہ اُن سے صادر ہوتے ہیں اس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی اگر چہ منہ سے ہر یک شخص دعوی کر سکتا ہے۔اور لاف و گزاف کے طور پر ہر یک کی اے عشق ہی ہے جو ذلت کی خاک پر آدمی کو تڑپاتا ہے۔عشق ہی ہے جو جلتی ہوئی آگ پر اسے بٹھاتا ہے۔کوئی کسی کے لئے سر نہیں دیتا نہ جان قربان کرتا ہے۔عشق ہی ہے کہ یہ کام پوری و فاداری سے کراتا ہے۔