حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 554
۵۵۴ قبل اس کے جو کوئی آفت فوق الطاقت نازل ہو ان کو دامن عاطفت میں لے لیتی ہے کیونکہ اُن کے تمام کاموں کا خدا متولی ہوتا ہے۔جیسا کہ اس نے آپ ہی فرمایا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصُّلِحِينَ لیکن دوسروں کو دنیا داری کے دلآ زار اسباب میں چھوڑا جاتا ہے اور وہ خارق عادت سیرت جو خاص ان لوگوں کے ساتھ ظاہر کی جاتی ہے کسی دوسرے کے ساتھ ظاہر نہیں کی جاتی اور یہ خاصہ ان کا بھی صحبت سے بہت جلد ثابت ہوسکتا ہے۔از انجملہ ایک مقام محبت ذاتی کا ہے جس پر قرآن شریف کے کامل متبعین کو قائم کیا جاتا ہے اور اُن کے رگ وریشہ میں اس قدر محبت الہیہ تا شیر کر جاتی ہے کہ ان کے وجود کی حقیقت بلکہ ان کی جان کی جان ہو جاتی ہے اور محبوب حقیقی سے ایک عجیب طرح کا پیار اُن کے دلوں میں جوش مارتا ہے اور ایک خارق عادت اُنس اور شوق ان کے قلوب صافیہ پر مستولی ہو جاتا ہے کہ جو غیر سے بکلی منقطع اور گستہ کر دیتا ہے اور آتش عشق الہی ایسی افروختہ ہوتی ہے کہ جو ہم صحبت لوگوں کو اوقات خاصہ میں بدیہی طور پر مشہود اور محسوس ہوتی ہے بلکہ اگر محبانِ صادق اس جوش محبت کو کسی حیلہ اور تدبیر سے پوشیدہ رکھنا بھی چاہیں تو یہ ان کے لئے غیر ممکن ہو جاتا ہے۔جیسے عشاق مجازی کے لئے بھی یہ بات غیر ممکن ہے کہ وہ اپنے محبوب کی محبت کو جس کے دیکھنے کے لئے دن رات مرتے ہیں اپنے رفیقوں اور ہم صحبتوں سے چھپائے رکھیں بلکہ وہ عشق جو ان کے کلام اور اُن کی صورت اور ان کی آنکھ اور ان کی وضع اور ان کی فطرت میں گھس گیا ہے اور اُن کے بال بال سے مترشح ہو رہا ہے وہ اُن کے چھپانے سے ہرگز چھپ ہی نہیں سکتا اور ہزار چھپائیں کوئی نہ کوئی نشان اس کا نمودار ہو جاتا ہے اور سب سے بزرگ تر اُن کے صدق قدم کا نشان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب حقیقی کو ہر یک چیز پر اختیار کر لیتے ہیں۔اور اگر آلام اُس کی طرف سے پہنچیں تو محبت ذاتی کے غلبہ سے برنگ انعام اُن کو مشاہدہ کرتے ہیں اور عذاب کو شربت عذب کی طرح سمجھتے ہیں۔کسی تلوار کی تیز دھار اُن میں اور اُن کے محبوب میں جدائی نہیں ڈال سکتی اور کوئی بلدیہ عظمی اُن کو اپنے اس پیارے کی یادداشت سے روک نہیں سکتے۔اسی کو اپنی جان سمجھتے ہیں اور اسی کی محبت میں لذات پاتے اور اُسی کی ہستی کو ہستی خیال کرتے ہیں اور اُسی کے ذکر کو اپنی زندگی کا ماحصل قرار دیتے ہیں۔اگر چاہتے ہیں تو اُسی کو اگر آرام پاتے ہیں تو اُسی سے۔تمام عالم میں اسی کو رکھتے ہیں اور اُسی کے ہو رہتے ہیں۔اُسی کے لئے جیتے ہیں اور اُسی کے لئے مرتے ہیں۔عالم میں رہ کر پھر الاعراف: ۱۹۷