حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 553
۵۵۳ میں قطعی طور پر باز رہے تو یہ اس کے لئے مشکل اور متع ہو جاتا ہے۔بلکہ اگر اس کام کے کرنے کے لئے کوشش اور سعی بھی کرے تو اس قدر موانع اور عوائق اس کو پیش آتے ہیں کہ بالآ خر خود اس کا یہ اصول ہو جاتا ہے کہ دنیا داری میں جھوٹ اور خلاف گوئی سے پر ہیز کرنا ناممکن ہے۔مگر ان سعید لوگوں کے لئے کہ جو سچی محبت اور پُر جوش ارادت سے فرقان مجید کی ہدایتوں پر چلنا چاہتے ہیں صرف یہی امر آسان نہیں کیا جاتا کہ وہ دروغ گوئی کی فتیح عادت سے باز رہیں بلکہ وہ ہر نا کر دنی اور نا گفتنی کے چھوڑنے پر قادر مطلق سے توفیق پاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ اپنی رحمت کا ملہ سے ایسی تقریبات شنیعہ سے اُن کو محفوظ رکھتا ہے جن سے وہ ہلاکت کے ورطوں میں پڑیں۔کیونکہ وہ دنیا کا نور ہوتے ہیں اور ان کی سلامتی میں دنیا کی سلامتی اور اُن کی ہلاکت میں دنیا کی ہلاکت ہوتی ہے۔اسی جہت سے وہ اپنے ہر یک خیال اور علم اور فہم اور غضب اور شہوت اور خوف اور طمع اور تنگی اور فراخی اور خوشی اور غمی اور عسر اور ٹیر میں تمام نالائق باتوں اور فاسد خیالوں اور نادرست علموں اور نا جائز عملوں اور بے جا فہموں اور ہر یک افراط اور تفریط نفسانی سے بچائے جاتے ہیں اور کسی مذموم بات پر ٹھہر نا نہیں پاتے کیونکہ خود خداوند کریم اُن کی تربیت کا متکفل ہوتا ہے اور جس شاخ کو ان کے شجرہ طیبہ میں خشک دیکھتا ہے اس کو فی الفور اپنے مربیانہ ہاتھ سے کاٹ ڈالتا ہے اور حمایت الہی ہر دم اور ہر لحظہ ان کی نگرانی کرتی رہتی ہے اور یہ نعمت محفوظیت کی جو اُن کو عطا ہوتی ہے۔یہ بھی بغیر ثبوت نہیں بلکہ زیرک انسان کسی قدرصحبت سے اپنی پوری تسلی سے اس کو معلوم کر سکتا ہے۔از انجملہ ایک مقام تو کل ہے جس پر نہایت مضبوطی سے اُن کو قائم کیا جاتا ہے۔اور ان کے غیر کو وہ چشمہ صافی ہرگز میسر نہیں آ سکتا بلکہ انہیں کے لئے وہ خوشگوار اور موافق کیا جاتا اور نور معرفت ایسا ان کو تھامے رہتا ہے کہ وہ بسا اوقات طرح طرح کی بے سامانی میں ہو کر اور اسباب عادیہ سے بکلی اپنے تئیں دُور پا کر پھر بھی ایسی بشاشت اور انشراح خاطر سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ایسی خوشحالی سے دنوں کو کاٹتے ہیں کہ گویا اُن کے پاس ہزار ہا خزائن ہیں۔اُن کے چہروں پر تو نگری کی تازگی نظر آتی ہے اور صاحب دولت ہونے کی مستقل مزاجی دکھائی دیتی ہے۔اور تنکوں کی حالت میں بکمال کشادہ دلی اور یقین کامل اپنے مولیٰ کریم پر بھروسہ رکھتے ہیں۔سیرت ایثار ان کا مشرب ہوتا ہے۔اور خدمت خلق ان کی عادت ہوتی ہے اور کبھی انقباض ان کی حالت میں راہ نہیں پاتا۔اگر چہ سارا جہان ان کا عیال ہو جائے اور فی الحقیقت خدائے تعالیٰ کی ستاری مستوجب شکر ہے جو ہر جگہ اُن کی پردہ پوشی کرتی ہے اور