حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 549 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 549

۵۴۹ اور نہ کسی مثال کے پیرائے میں بیان کر سکتا ہے۔اور انوار الہی کو اپنے نفس پر بارش کی طرح برستے ہوئے دیکھتا ہے۔اور وہ انوار کبھی اخبار غیبیہ کے رنگ میں اور کبھی علوم و معارف کی صورت میں اور کبھی اخلاق فاضلہ کے پیرا یہ میں اس پر اپنا پر تو ہ ڈالتے رہتے ہیں۔یہ تاثیرات فرقان مجید کی سلسلہ وار چلی آتی ہیں۔اور جب سے کہ آفتاب صداقت ذات بابرکات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آیا اُسی دم سے آج تک ہزار ہا نفوس جو استعداد اور قابلیت رکھتے تھے متابعت کلام الہی اور اتباع رسول مقبول سے مدارج عالیہ مذکورہ بالا تک پہنچ چکے ہیں اور پہنچتے جاتے ہیں۔اور خدائے تعالیٰ اس قدر اُن پر پے در پے اور علی الاتصال تلطفات اور تفصلات وارد کرتا ہے اور اپنی حمایتیں اور عنایتیں دکھلاتا ہے کہ صافی نگاہوں کی نظر میں ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ لوگ منظورانِ نظر احدیت سے ہیں جن پر لطف ربانی کا ایک عظیم الشان سایہ اور فضل یزدانی کا ایک جلیل القدر پیرایہ ہے اور دیکھنے والوں کو صریح دکھائی دیتا ہے کہ وہ انعامات خارق عادت سے سرفراز ہیں اور کرامات عجیب اور غریب سے ممتاز ہیں۔اور محبوبیت کے عطر سے معطر ہیں اور مقبولیت کے فخروں سے مفتخر ہیں اور قادر مطلق کا نور اُن کی صحبت میں ان کی توجہ میں اُن کی ہمت میں اُن کی دُعا میں اُن کی نظر میں اُن کے اخلاق میں اُن کی طرز معیشت میں اُن کی خوشنودی میں اُن کے غضب میں اُن کی رغبت میں اُن کی نفرت میں اُن کی حرکت میں اُن کے سکون میں اُن کے نطق میں اُن کی خاموشی میں اُن کے ظاہر میں اُن کے باطن میں ایسا بھرا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک لطیف اور مصفا شیشہ ایک نہایت عمدہ عطر سے بھرا ہوا ہوتا ہے اور اُن کے فیض صحبت اور ارتباط اور محبت سے وہ باتیں حاصل ہو جاتی ہیں کہ جو ریاضات شاقہ سے حاصل نہیں ہوسکتیں اور اُن کی نسبت ارادت اور عقیدت پیدا کرنے سے ایمانی حالت ایک دوسرا رنگ پیدا کر لیتی ہے اور نیک اخلاق کے ظاہر کرنے میں ایک طاقت پیدا ہو جاتی ہے اور شوریدگی اور امارگی نفس کی رو کبھی ہونے لگتی ہے اور اطمینان اور حلاوت پیدا ہوتی جاتی ہے اور بقدر استعداد اور مناسبت ذوق ایمانی جوش مارتا ہے اور انس اور شوق ظاہر ہوتا ہے اور اِلْتِدَاذُ بِذِكْرِ اللہ بڑھتا ہے اور اُن کی صحبت طویلہ سے بضرورت یہ اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی ایمانی قوتوں میں اور اخلاقی حالتوں میں اور انقطاع عن الدنیا میں اور توجہ الی اللہ میں اور محبت الہیہ میں اور شفقت علی العباد میں اور وفا اور رضا اور استقامت میں اس عالی مرتبہ پر ہیں جس کی نظیر دنیا میں نہیں دیکھی گئی۔اور عقل سلیم فی الفور معلوم کر لیتی ہے کہ وہ بند اور زنجیر اُن کے پانوں سے اتارے گئے ہیں جن میں دوسرے لوگ گرفتار ہیں۔اور وہ تنگی اور انقباض اُن کے سینے سے