حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 547 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 547

۵۴۷ کی ہدایت کے لئے نازل کی گئی ہے جو بوجہ پاک باطنی و عقل سلیم و فهم مستقیم و شوق طلب حق و نیت صحیح انجام کار درجه ایمان و خدا شناسی و تقوی کامل پر پہنچ جائیں گے۔یعنی جن کو خدا اپنے علم قدیم سے جانتا ہے کہ ان کی فطرت اس ہدایت کے مناسب حال واقعہ ہے اور وہ معارف حقانی میں ترقی کر سکتے ہیں وہ بالآخر اس کتاب سے ہدایت پا جائیں گے اور بہر حال یہ کتاب ان کو پہنچ رہے گی۔اور قبل اس کے جو وہ مریں خدا اُن کو راہ راست پر آنے کی توفیق دے دے گا۔اب دیکھو اس جگہ خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ جولوگ خدائے تعالیٰ کے علم میں ہدایت پانے کے لائق ہیں اور اپنی اصل فطرت میں صفت تقویٰ سے متصف ہیں وہ ضرور ہدایت پا جائیں گے۔اور پھر ان آیات میں جو اس آیت کے بعد میں لکھی گئی ہے اس کی زیادہ تر تفصیل کر دی اور فرمایا کہ جس قدر لوگ ( خدا کے علم میں ) ایمان لانے والے ہیں وہ اگر چہ ہنوز مسلمانوں میں شامل نہیں ہوئے پر آہستہ آہستہ سب شامل ہو جائیں گے اور وہی لوگ باہر رہ جائیں گے جن کو خدا خوب جانتا ہے کہ طریقہ حقہ اسلام قبول نہیں کریں گے اور گوان کو نصیحت کی جائے یا نہ کی جائے ایمان نہیں لائیں گے یا مراتب کاملہ تقویٰ و معرفت تک نہیں پہنچیں گے۔غرض ان آیات میں خدائے تعالیٰ نے کھول کر بتلا دیا کہ ہدایت قرآنی سے صرف متقی مشفع ہو سکتے ہیں جن کی اصل فطرت میں غلبہ کسی ظلمت نفسانی کا نہیں۔۔اور اگر یہ کہو کہ جن تک کتاب الہامی نہیں پہنچی اُن کی نجات کا کیا حال ہے؟ اس کا یہ جواب ہے کہ اگر ایسے لوگ بالکل وحشی اور عقل انسانی سے بے بہرہ ہیں تو وہ ہر یک باز پرس سے بری اور مرفوع القلم ہیں اور مجانین اور مسلوب الحواسوں کا حکم رکھتے ہیں۔لیکن جن میں کسی قدر عقل اور ہوش ہے اُن سے بقدر عقل اُن کی محاسبہ ہو گا۔( براہین احمدیہ ہر چہار حص۔روحانی خزائن جلد اصفحه ۱۹۸ تا ۲۰۳ حاشیہ نمبر۱۱) جو کچھ قرآن شریف نے تو حید کا تخم بلا عرب - فارس - مصر۔شام۔ہند۔چین۔افغانستان۔کشمیر وغیرہ بلاد میں بو دیا ہے اور اکثر بلاد سے بت پرستی اور دیگر اقسام کی مخلوق پرستی کا تم جڑ سے اکھاڑ دیا ہے یہ ایک ایسی کارروائی ہے کہ اس کی نظیر کسی زمانہ میں نہیں پائی جاتی۔مگر بمقابل اس کے جب ہم وید کی طرف دیکھتے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ وہ آریہ ورت کی بھی اصلاح نہیں کر سکا۔(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۷۷ ) تم ہوشیار رہو اور خدا کی تعلیم اور قرآن کی ہدایت کے برخلاف ایک قدم بھی نہ اٹھاؤ۔میں تمہیں سچ سچ