حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 546
۵۴۶ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلِّلٍ مُّبِيْنٍ وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ - الجزو نمبر ۲۸ آیات مندرجہ بالا میں پہلے اس آیت پر یعنی الم - ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ پر غور کرنا چاہئے کہ کس لطافت اور خوبی اور رعایت ایجاز سے خدائے تعالیٰ نے وسوسہ مذکور کا جواب دیا ہے۔اول قرآن شریف کے نزول کی علت فاعلی بیان کی اور اس کی عظمت اور بزرگی کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا اللہ میں خدا ہوں جو سب سے زیادہ جانتا ہوں یعنی نازل کنندہ اس کتاب کا میں ہوں جو علیم و حکیم ہوں جس کے علم کے برابر کسی کا علم نہیں۔پھر بعد اس کے علت مادی قرآن کے بیان میں فرمائی اور اس کی عظمت کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا ذلِكَ الْكِتُبُ وہ کتاب ہے یعنی ایسی عظیم الشان اور عالی مرتبت کتاب ہے جس کی علت مادی علم الہی ہے یعنی جس کی نسبت ثابت ہے کہ اس کا منبع اور چشمہ ذات قدیم حضرت حکیم مطلق ہے۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے وہ کا لفظ اختیار کرنے سے جو بعد اور ڈوری کے لئے آتا ہے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ کتاب اُس ذات عالی صفات کے علم سے ظہور پذیر ہے جو اپنی ذات میں بے مثل و مانند ہے جس کے علوم کاملہ واسرار دقیقہ نظر انسانی کی حد جولان سے بہت بعید اور دُور ہیں۔پھر بعد اس کے علت صوری کا قابل تعریف ہونا ظاہر فرمایا اور کہا لَا رَيْبَ فِيهِ یعنی قرآن اپنی ذات میں ایسی صورت مدلل و معقول پر واقعہ ہے کہ کسی نوع کے شک کرنے کی اس میں گنجائش نہیں۔یعنی وہ دوسری کتابوں کی طرح بطور کتھا اور کہانی کے نہیں بلکہ ادلہ یقینیه و براہین قطعیہ پر مشتمل ہے اور اپنے مطالب پر حجج بینہ اور دلائل شافیہ بیان کرتا ہے اور فی نفسہ ایک معجزہ ہے جو شکوک اور شبہات کے دُور کرنے میں سیف قاطع کا حکم رکھتا ہے اور خدا شناسی کے بارہ میں صرف ہونا چاہئے کے ظنی مرتبہ میں نہیں چھوڑتا بلکہ ہے کے یقینی اور قطعی مرتبہ تک پہنچاتا ہے۔یہ تو علل ثلاثہ کی عظمت کا بیان فرمایا اور پھر باوجود عظیم الشان ہونے ان ہر سہ علتوں کے جن کو تا ثیر اور اصلاح میں دخل عظیم ہے علت رابعہ یعنی علت غائی نزول قرآن شریف کو جو رہنمائی اور ہدایت ہے صرف متقین میں منحصر کر دیا اور فرمایا هُدًى لِلْمُتَّقِينَ یعنی یہ کتاب صرف ان جو ہر قابلہ الجمعة : ۳ تا ۵