حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 543
۵۴۳ دوسرا دروازہ معرفت الہی کا جو قرآن شریف میں نہایت وسیع طور پر کھلا ہوا ہے دقائق علمیہ ہیں۔جن کو بوجہ ء خارق عادت ہونے کے علمی اعجاز کہنا چاہئے۔وہ علوم کئی قسم کے ہیں۔اول علم معارف دین یعنی جس قدر معارف عالیہ دین اور اس کی پاک صداقتیں ہیں اور جس قدر نکات و لطائف علم الہی ہیں جن کی اس دنیا میں تکمیل نفس کے لئے ضرورت ہے۔ایسا ہی جس قدر نفس امارہ کی بیماریاں اور اس کے جذبات اور اس کی دوری یا دائمی آفات ہیں یا جو کچھ ان کا علاج اور اصلاح کی تدبیریں ہیں اور جس قدر تزکیہ و تصفیہ نفس کے طریق ہیں اور جس قد ر ا خلاق فاضلہ کے انتہائی ظہور کی علامات و خواص ولوازم ہیں یہ سب کچھ باستیفا ئے تام فرقان مجید میں بھرا ہوا ہے۔اور کوئی شخص ایسی صداقت یا ایسا نکتہ الہیہ یا ایسا طریق وصول الی اللہ یا کوئی ایسا نادر یا پاک طور مجاہدہ و پرستش الہی کا نکال نہیں سکتا جو اس پاک کلام میں درج نہ ہو۔دوسرے علم خواص روح و علم نفس ہے جو ایسے احاطہ تام سے اس کلام معجز نظام میں اندراج پایا ہے کہ جس سے غور کرنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ بجز قادر مطلق کے یہ کسی کا کام نہیں۔تیسرے علم مبدء و معاد و دیگر امور غیبیہ جو عالم الغیب کے کلام کا ایک لازمی خاصہ ہے جس سے دلوں کو تسلی و تشفی ملتی ہے اور غیب دانی خدائے قادر مطلق کی مشہودی طور پر ثابت و متحقق ہوتی ہے۔یہ علم اس تفصیل اور کثرت سے قرآن شریف میں پایا جاتا ہے کہ دنیا میں کوئی دوسری کتاب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔پھر علاوہ اس کے قرآن شریف نے تائید دین میں اور اور علوم سے بھی اعجازی طور پر خدمت لی ہے۔اور منطق اور طبعی اور فلسفہ اور ہیئت اور علم نفس اور طبابت اور علم ہندسہ اور علم بلاغت و فصاحت وغیرہ علوم کے وسائل سے علم دین کا سمجھانا اور ذہن نشین کرنا یا اس کا تفہیم درجہ بدرجہ آسان کر دینا یا اس پر کوئی برہان قائم کرنا یا اس سے کسی نادان کا اعتراض اٹھانا مدنظر رکھا ہے۔غرض طفیلی طور پر یہ سب علوم خدمتِ دین کے لئے بطور خارق عادت قرآن شریف میں اس عجیب طرز سے بھرے ہوئے ہیں جن سے ہر یک درجہ کا ذہن فائدہ اُٹھا سکتا ہے تیسرا دروازہ معرفت الہی کا جو قرآن شریف میں اللہ جل شانه نے اپنی عنایت خاص سے کھول رکھا ہے برکات روحانیہ ہیں جس کو اعجاز تا شیری کہنا چاہئے۔یہ بات کسی سمجھ دار پر مخفی نہیں ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زاد بوم ایک محدود جزیرہ نما ملک ہے جس کو عرب کہتے ہیں۔جو دوسرے ملکوں سے ہمیشہ بے تعلق رہ کر گویا ایک گوشتہ تنہائی میں پڑا رہا ہے۔اس ملک کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور سے پہلے بالکل وحشیانہ اور درندوں کی طرح زندگی بسر کرنا اور دین اور ایمان اور حق اللہ اور حق العباد سے بے خبر محض ہونا اور سینکڑوں برسوں سے بت پرستی و دیگر ناپاک