حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 542
۵۴۲ کہتے ہیں۔غرض قرآن شریف میں تصرفات خارجیہ کا ذکر بھی بطور خارق عادت بہت جگہ آیا ہے بلکہ ذرا نظر کھول کر دیکھو تو اس پاک کلام کا ہر یک مقام تائیدات الہیہ کا نقارہ بجا رہا ہے۔سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۶۰ تا ۶۷ حاشیہ) معرفت حقانی کے عطا کرنے کے لئے تین دروازے قرآن شریف میں کھلے ہوئے ہیں۔ایک عقلی یعنی خدائے تعالیٰ کی ہستی اور خالقیت اور اُس کی توحید اور قدرت اور رحم اور قیومی اور مجازات وغیرہ صفات کی شناخت کے لئے جہاں تک علومِ عقلیہ کا تعلق ہے استدلالی طریق کو کامل طور پر استعمال کیا ہے اور اس استدلال کے ضمن میں صناعت منطق و علم بلاغت و فصاحت وعلوم طبعی و طبابت و هیئت و ہندسہ و دقائق فلسفیه و طریق جدل و مناظرہ وغیرہ تمام علوم کو نہایت لطیف و موزوں طور پر بیان کیا ہے جس سے اکثر دقیق مسائل کا بیچ کھلتا ہے۔پس یہ طرز بیان جو فوق العادت ہے از قسم اعجاز عقلی ہے۔کیونکہ بڑے بڑے فیلسوف جنہوں نے منطق کو ایجاد کیا اور فلاسفی کے قواعد مرتب کئے اور بہت کچھ طبعی اور ہیئت میں کوشش و مغز زنی کی وہ باعث نقصان عقل اپنے ان علوم سے اپنے دین کو مدد نہیں دے سکے اور نہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کر سکے اور نہ اور وں کو فائدہ دینی پہنچا سکے بلکہ اکثر اُن کے دہر یہ اور ملحد اور ضعیف الایمان رہے اور جو بعض ان میں سے کسی قدر خدائے تعالیٰ پر ایمان لائے انہوں نے ضلالت کو صداقت کے ساتھ ملا کر اور خبیث کو طیب کے ساتھ مخلوط کر کے راہ راست کو چھوڑ دیا۔پس یہ الہی عقل از قبیل خارق عادت ہے جس کے استدلال میں کوئی غلطی نہیں اور جس نے علوم مذکورہ سے ایک ایسی شائستہ خدمت لی ہے جو کبھی کسی انسان نے نہیں لی۔اور اس کے ثبوت کے لئے یہی کافی ہے کہ دلائل وجود باری عزّ اسمہ اور اس کی توحید و خالقیت وغیرہ صفات کمالیہ کے اثبات میں بیان قرآن شریف کا ایسا محیط و حاوی ہے جس سے بڑھ کر ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان کوئی جدید برہان پیش کر سکے اگر کسی کو شک ہو تو وہ چند دلائل عقلی متعلق اثبات ہستی باری عز اسمہ یا اس کی توحید یا اس کی خالقیت یا کسی دوسری الہی صفت کے متعلق بطور امتحان پیش کرے تا بالمقابل قرآن شریف میں سے وہی دلائل یا ان سے بڑھ کر اُس کو دکھلائے جائیں۔جس کے دکھلانے کے ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں۔غرض یہ دعویٰ اور یہ تعریف قرآنی لاف و گزاف نہیں بلکہ حقیقت میں حق ہے۔اور کوئی شخص عقائد حقہ کے اثبات میں کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کر سکتا جس کے پیش کرنے سے قرآن شریف غافل رہا ہو۔قرآن شریف بآواز بلند بیسیوں جگہ اپنے احاطہ تامہ کا دعویٰ پیش کرتا ہے۔۔