حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 541
۵۴۱ آنحضرت اُن کے سروں پر خاک ڈال کر چلے گئے۔از انجملہ ایک یہ کہ اللہ جل شانہ نے اپنے نبی معصوم کے محفوظ رکھنے کے لئے یہ امر خارق عادت دکھلایا کہ باوجود یکہ مخالفین اس غار تک پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معہ اپنے رفیق کے مخفی تھے مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ سکے کیونکہ خدائے تعالیٰ نے ایک کبوتر کا جوڑا بھیج دیا جس نے اُسی رات غار کے دروازہ پر آشیانہ بنا دیا اور انڈے بھی دیدئیے اور اسی طرح اذنِ الہی سے عنکبوت نے اس غار پر اپنا گھر بنا دیا۔جس سے مخالف لوگ دھوکا میں پڑ کر نا کام واپس چلے گئے۔از انجملہ ایک یہ کہ ایک مخالف جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پکڑنے کے لئے مدینہ کی راہ پر گھوڑا دوڑائے چلا جاتا تھا جب وہ اتفاقاً آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچا تو جناب ممدوح کی بد دعا سے اس کے گھوڑے کے چاروں تم زمین میں دھنس گئے اور وہ گر پڑا۔اور پھر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پناہ مانگ کر اور عفو تقصیر کرا کر واپس لوٹ آیا۔چوتھی وہ تصرف اعجازی کہ جب دشمنوں نے اپنی ناکامی سے منفعل ہو کر لشکر کثیر کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر چڑھائی کی تا مسلمانوں کو جو ابھی تھوڑے سے آدمی تھے نابود کر دیں اور دین اسلام کا نام ونشان مٹا دیں۔تب اللہ جل شانہ نے جناب موصوف کے ایک مٹھی کنکریوں کے چلانے سے مقام بدر میں دشمنوں میں ایک تہلکہ ڈال دیا اور اُن کے لشکر کو شکست فاش ہوئی اور خدائے تعالیٰ نے ان چند کنکریوں سے مخالفین کے بڑے بڑے سرداروں کو سراسیمہ اور اندھا اور پریشان کر کے وہیں رکھا اور اُن کی لاشیں انہی مقامات میں گرائیں جن کے پہلے ہی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ نشان بتلا رکھے تھے۔ایسا ہی اور کئی عجیب طور کے تائیدات و تصرفات الہیہ کا (جو خارق عادت ہیں ) قرآن شریف میں ذکر ہے جن کا ماحصل یہ ہے کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مسکینی اور غریبی اور یتیمی اور تنہائی اور بے کسی کی حالت میں مبعوث کر کے پھر ایک نہایت قلیل عرصہ میں جو تمیں برس سے بھی کم تھا ایک عالم پر فتحیاب کیا۔اور شہنشاہ قسطنطنیہ و بادشاہان دیار شام و مصر و ممالک ما بین دجلہ و فرات وغیرہ پر غلبہ بخشا۔اور اس تھوڑے ہی عرصہ میں فتوحات کو جزیرہ نما عرب سے لے کر دریائے جیحون تک پھیلایا۔اور ان ممالک کے اسلام قبول کرنے کی بطور پیشگوئی قرآن شریف میں خبر دی۔اس حالت بے سامانی اور پھر ایسی عجیب و غریب فتحوں پر نظر ڈال کر بڑے بڑے دانشمند اور فاضل انگریزوں نے بھی شہادت دی ہے کہ جس جلدی سے اسلامی سلطنت اور اسلام دنیا میں پھیلا ہے اس کی نظیر صفحہ تواریخ دنیا میں کسی جگہ نہیں پائی جاتی۔اور ظاہر ہے کہ جس امر کی کوئی نظیر نہ پائی جائے اسی کو دوسرے لفظوں میں خارق عادت بھی