حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 530 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 530

۵۳۰۔کہ وہ معارف ظاہر ہوں اسلام تمام ادیان باطلہ پر فتح پا سکے کیونکہ سیفی فتح کچھ چیز نہیں اور چند روزہ اقبال کے دور ہونے سے وہ فتح بھی معدوم ہو جاتی ہے۔کچی اور حقیقی فتح وہ ہے جو معارف اور حقائق اور کامل صداقتوں کے لشکر کے ساتھ حاصل ہو۔سو وہ یہ فتح ہے جواب اسلام کو نصیب ہو رہی ہے۔بلاشبہ یہ پیشگوئی اسی زمانہ کے حق میں ہے۔اور سلف صالح بھی ایسا ہی سمجھتے آئے ہیں۔یہ زمانہ در حقیقت ایک ایسا زمانہ ہے جو بالطبع تقاضا کر رہا ہے جو قرآن شریف اپنے ان تمام لبطون کو ظاہر کرے جو اس کے اندر مخفی چلے آتے ہیں۔یہ بات ہر یک فہیم کو جلدی سمجھ میں آ سکتی ہے کہ اللہ جل شانہ کی کوئی مصنوع دقائق وغرائب خواص سے خالی نہیں۔اور اگر ایک مکھی کے خواص و عجائبات کی قیامت تک تفتیش و تحقیقات کرتے جائیں تو وہ بھی کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔تو اب سوچنا چاہئے کہ کیا خواص و عجائبات قرآن کریم کے اپنے قدر و اندازہ میں مکھی جتنے بھی نہیں؟ بلاشبہ وہ عجائبات تمام مخلوقات کے مجموعی عجائبات سے بہت بڑھ کر ہیں اور ان کا انکار در حقیقت قرآن کریم کے منجانب اللہ ہونے کا انکار ہے کیونکہ دنیا میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں کہ جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے صادر ہو اور اُس میں بے انتہا عجائبات نہ پائے جائیں وہ نکات و حقائق جو معرفت کو زیادہ کرتے ہیں وہ ہمیشہ حسب ضرورت کھلتے رہتے ہیں۔اور نئے نئے فسادوں کے وقت نئے نئے پر حکمت معانی بمنصہ ظہور آتے رہتے ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن کریم بذات خود معجزہ ہے اور بڑی بھاری وجہ اعجاز کی اُس میں یہ ہے کہ وہ جامع حقائق غیر متناہیہ ہے مگر بغیر وقت کے وہ ظاہر نہیں ہوتے۔جیسے جیسے وقت کی مشکلات تقاضا کرتی ہیں وہ معارف خفیہ ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔دیکھو د نیوی علوم جواکثر مخالف قرآن کریم اور غفلت میں ڈالنے والے ہیں کیسے آج کل ایک زور سے ترقی کر رہے ہیں اور زمانہ اپنے علوم ریاضی اور طبعی اور فلسفہ کی تحقیقاتوں میں کیسی ایک عجیب طور کی تبدیلیاں دکھلا رہا ہے کیا ایسے نازک وقت میں ضرور نہ تھا کہ ایمانی اور عرفانی ترقیات کے لئے بھی دروازہ کھولا جاتا تا شرور محدثہ کی مدافعت کے لئے آسانی پیدا ہو جاتی۔سو یقیناً سمجھو کہ وہ دروازہ کھولا گیا ہے اور خدا تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ تا قرآن کریم کے عجائبات مخصیہ اس دنیا کے متکبر فلسفیوں پر ظاہر کرے۔اب نیم ملاں دشمن اسلام اس ارادہ کو روک نہیں سکتے۔اگر اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے تو ہلاک کئے جائیں گے اور قہری طمانچہ حضرت قہار کا ایسا لگے گا کہ خاک میں مل جائیں گے۔ان نادانوں کو حالت موجودہ پر بالکل نظر نہیں۔چاہتے ہیں کہ قرآن کریم مغلوب اور کمزور اور ضعیف اور حقیر سا نظر آوے لیکن اب وہ ایک جنگی بہادر کی طرح نکلے گا۔