حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 529 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 529

۵۲۹ میں دوسرے معنے بھی ہیں جو رسالہ فتح اسلام میں درج کئے گئے ہیں۔اب فرمائیے کہ یہ تمام معارف حقہ کس تفسیر میں موجود ہیں؟ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن شریف کے ایک معنے کے ساتھ اگر دوسرے معنے بھی ہوں تو ان دونوں معنوں میں کوئی تناقض پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہدایت قرآنی میں کوئی نقص عائد حال ہوتا ہے بلکہ ایک نور کے ساتھ دوسرا نور مل کر عظمت فرقانی کی روشنی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے اور چونکہ زمانہ غیر محدود انقلابات کی وجہ سے غیر محدود خیالات کا بالطبع محرک ہے لہذا اس کا نٹے پیرا یہ میں ہو کر جلوہ گر ہونا یا نئے نئے علوم کو بمنقہ ظہور لانا یا نئے نئے بدعات اور محدثات کو دکھلانا ایک ضروری امر اس کے لئے پڑا ہوا ہے۔اب اس حالت میں ایسی کتاب جو خاتم الکتب ہونے کا دعوی کرتی ہے اگر زمانہ کے ہر یک رنگ کے ساتھ مناسب حال اس کا تدارک نہ کرے تو وہ ہرگز خاتم الکتب نہیں ٹھہر سکتی اور اگر اس کتاب میں مخفی طور پر وہ سب سامان موجود ہے جو ہر یک حالت زمانہ کے لئے درکار ہے تو اس صورت میں ہمیں ماننا پڑے گا کہ قرآن شریف بلاریب غیر محدود معارف پر مشتمل ہے اور ہر یک زمانہ کی ضرورات لاحقہ کا کامل طور پر متکلفل ہے۔اب یہ بھی یادر ہے کہ عادت اللہ ہر ایک کامل مہم کے ساتھ یہی رہی ہے کہ عجائبات مخفیہ فرقان اس پر ظاہر ہوتے رہے ہیں۔بلکہ بسا اوقات ایک مہم کے دل پر قرآن شریف کی آیت الہام کے طور پر القاء ہوتی ہے اور اصل معنی سے پھیر کر کوئی اور مقصود اس سے ہوتا ہے۔جیسا کہ مولوی عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی اپنے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں کہ مجھے ایک مرتبہ الہام ہوا۔قلنا یا نار کونی بردًا وسلامًا۔مگر میں اس کے معنے نہ سمجھا۔پھر الہام ہوا قلنا یا صبر کونی بردا و سلاما تب میں سمجھ گیا کہ نار سے مراد اس جگہ صبر ہے۔(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۵۵ تا ۲۶۲)۔یہی زمانہ ہے کہ جس میں ہزار ہا قسم کے اعتراضات اور شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔اور انواع اقسام کے عقلی حملے اسلام پر کئے گئے ہیں۔اور خدائے تعالیٰ فرماتا ہے وَ إِنْ مِّنْ شَيْ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَابِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ لا یعنی هر یک چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں۔مگر بقدر معلوم اور بقدر ضرورت ہم ان کو اتارتے ہیں۔سو جس قدر معارف و حقائق بطون قرآن کریم میں چھپے ہوئے ہیں جو ہر یک قسم کے ادیان فلسفیہ و غیر فلسفیہ کو مقہور ومغلوب کرتے ہیں۔ان کے ظہور کا زمانہ یہی تھا۔کیونکہ وہ بجر تحریک ضرورت پیش آمدہ کے ظاہر نہیں ہو سکتے تھے۔سواب مخالفانہ حملے جو نئے فلسفہ کی طرف سے ہوئے تو ان معارف کے ظاہر ہونے کا وقت آ گیا اور ممکن نہیں تھا کہ بغیر اس کے الحجر : ٢٢