حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 528 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 528

۵۲۸ حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر یک زمانہ کے خیالات کو مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں۔اگر قرآن شریف اپنے حقائق و دقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیز ہوتی تو ہرگز وہ معجزہ تامہ نہیں ٹھہر سکتا تھا فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہر یک خواندہ، ناخواندہ کو معلوم ہو جائے۔کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و دقائق اپنے اندر رکھتا ہے۔جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا وہ علم قرآن سے سخت بے نصیب ہے۔وَمَنْ لَّمْ يُؤْمِنُ بِذَالِكَ الْإِعْجَازِ فَوَ اللَّهِ مَا قَدَرَ الْقُرْآنَ حَقَّ قَدْرِهِ وَ مَا عَرَفَ اللَّهَ حَقَّ مَعْرِفَتِهِ وَمَا وَقَرَ الرَّسُولَ حَقَّ تَوْقِيرِهِ۔۔اے بندگانِ خدا ! یقیناً یا د رکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے۔اور ہر یک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعویٰ کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے۔کوئی شخص بر ہمو ہو یا بدھ مذہب والا یا آریہ یا کسی اور رنگ کا فلسفی کوئی ایسی الہی صداقت نکال نہیں سکتا جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہ ہو۔قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔اور جس طرح صحیفہ فطرت کے عجائب وغرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں۔یہی حال ان صحف مطہرہ کا ہے تا خدائے تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو۔اور میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام میرے پر کھلتے رہتے ہیں اور اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ تفسیروں میں ان کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔مثلاً یہ جو اس عاجز پر کھلا ہے کہ ابتدائے خلقت آدم سے جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت تک مدت گذری تھی وہ تمام مدت سورۃ والعصر کے اعداد ۴۷۴۰ حروف میں بحساب قمری مندرج ہے یعنی چار ہزار سات سو چالیس۔اب بتلاؤ کہ یہ دقائق قرآنیہ جس میں قرآن کریم کا اعجاز نمایاں ہے کسی تفسیر میں لکھے ہیں۔ایسا ہی خدائے تعالیٰ نے میرے پر یہ نکتہ معارف قرآنیہ کا ظاہر کیا کہ اِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ " کے صرف یہی معنے نہیں کہ ایک بابرکت رات ہے جس میں قرآن شریف اترا بلکہ با وجود ان معنوں کے جو بجائے خود صحیح ہیں۔اس آیت کے بطن ے اور جو شخص اس معجزہ پر ایمان نہیں لاتا تو اللہ کی قسم اس نے قرآن کی قدر کرنے کا حق ادا نہیں کیا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی اس حد تک معرفت حاصل کی ہے جو حاصل کرنا چاہیے تھی اور نہ ہی اس سے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عزت و توقیر کا حق ادا کیا ہے۔القدر : ٢