حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 515
۵۱۵ شکوک و شبہات سے مخلصی بخش کر ایسی کامل معرفت اس کو عطا کرے کہ گویا وہ اپنے خدا کو دیکھ لے اور خدا کے ساتھ ایسے مستحکم تعلقات اس کو بخش دے کہ وہ خدا کا وفادار بندہ بن جائے اور خدا اس پر ایسا لطف و احسان کرے کہ اپنی انواع و اقسام کی نصرت اور مدد اور حمایت سے اس میں اور اُس کے غیر میں فرق کر کے دکھلائے اور اپنی معرفت کے دروازے اُس پر کھول دے۔اور اگر کوئی کتاب اپنے اس فرض کو ادا نہ کرے جو اس کا اصلی فرض ہے اور دوسرے بے ہودہ دعووں سے اپنی خوبی ثابت کرنی چاہے تو اس کی یہی مثال ہے کہ ایک شخص مثلاً طبیب حاذق ہونے کا دعویٰ کرے اور جب کوئی بیمار اس کے سامنے پیش کیا جائے کہ اس کو اچھا کر کے دکھلاؤ تو وہ یہ جواب دے کہ میں اس کو اچھا تو نہیں کر سکتا لیکن میں کشتی کرنا خوب جانتا ہوں۔یا یہ کہے کہ علم ہیئت اور فلسفہ میں مجھے بہت دخل ہے۔ظاہر ہے کہ ایسا آدمی مسخرہ کہلائے گا اور عقلمندوں کے نزدیک قابل سرزنش ہو گا۔خدا کی کتاب اور خدا کے رسول جو دنیا میں آتے ہیں بڑی غرض اُن کی یہی ہوتی ہے جو دنیا کو پاپ اور گناہ کی زندگی سے چھوڑا دیں اور خدا سے پاک تعلقات قائم کریں۔اُن کی یہ غرض تو نہیں ہوتی کہ دنیا کے علوم ان کو سکھاویں اور دنیا کی ایجادوں سے اُن کو آگاہ کریں۔غرض ایک عقلمند اور منصف مزاج آدمی کے نزدیک اس بات کا سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ خدا کی کتاب کا فرض یہی ہے کہ وہ خدا کو ملا وے اور خدا کی ہستی کے بارہ میں یقین کے درجہ تک پہنچاوے اور خدا کی عظمت اور ہیبت دل میں بٹھا کر گناہ کے ارتکاب سے روک دے ورنہ ہم ایسی کتاب کو کیا کریں جو نہ دل کا گند دُور کر سکتی ہے اور نہ ایسی پاک اور کامل معرفت بخش سکتی ہے جو گناہ سے نفرت کرنے کا موجب ہو سکے۔یادر ہے کہ گناہ کی رغبت کا جذام نہایت خطرناک جذام ہے اور یہ جذام کسی طرح دُور ہی نہیں ہو سکتا جب تک کہ خدا کی زندہ معرفت کی تجلیات اور اس کی ہیبت اور عظمت اور قدرت کے نشان بارش کی طرح وارد نہ ہوں اور جب تک کہ انسان خدا کو اُس کی مہیب طاقتوں کے ساتھ ایسا نزدیک نہ دیکھے جیسے وہ بکری کہ جب شیر کو دیکھتی ہے کہ صرف وہ اُس سے دو قدم کے فاصلہ پر ہے۔انسان کو یہ ضرورت ہے کہ وہ گناہ کے مہلک جذبات سے پاک ہو اور اس قدر خدا کی عظمت اُس کے دل میں بیٹھ جائے کہ وہ بے اختیار کرنے والی نفسانی شہوات کی خواہش کہ جو بجلی کی طرح اُس پر گرتی اور اُس کے تقویٰ کے سرمایہ کو ایک دم میں جلا دیتی ہے وہ دُور ہو جاوے۔مگر کیا وہ ناپاک جذبات کہ جو مرگی کی طرح بار بار پڑتے ہیں اور پر ہیز گاری کے ہوش و حواس کو کھو دیتے ہیں وہ صرف اپنے ہی