حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 514
۵۱۴ ہم اس بات کے گواہ ہیں اور تمام دنیا کے سامنے اس شہادت کو ادا کرتے ہیں کہ ہم نے اِس حقیقت کو جو خدا تک پہنچاتی ہے قرآن سے پایا۔ہم نے اُس خدا کی آواز سنی اور اس کے پُر زور بازو کے نشان دیکھے جس نے قرآن کو بھیجا۔سو ہم یقین لائے کہ وہی سچا خدا اور تمام جہانوں کا مالک ہے۔ہمارا دل اس یقین سے ایسا پُر ہے جیسا کہ سمندر کی زمین پانی سے۔سو ہم بصیرت کی راہ سے اس دین اور اس روشنی کی طرف ہر ایک کو بلاتے ہیں۔ہم نے اس نور حقیقی کو پایا جس کے ساتھ سب ظلمانی پر دے اُٹھ جاتے ہیں اور غیر اللہ سے در حقیقت دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔یہی ایک راہ ہے جس سے انسان نفسانی جذبات اور ظلمات سے ایسا باہر آ جاتا ہے جیسا کہ سانپ اپنی کینچلی ہے۔( کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۵) یہ تو ظاہر ہے کہ ہر ایک چیز کی بڑی خوبی یہی سمجھی جائے گی کہ جس غرض کے پورا کرنے کے لئے وہ وضع کی گئی ہے اس غرض کو بوجہ احسن پوری کر سکے۔مثلاً اگر کسی بیل کو قلبہ رانی کے لئے خریدا گیا ہے تو اُس بیل کی یہی خوبی دیکھی جائے گی کہ وہ بیل قلبہ رانی کے کام کو بوجہ احسن ادا کر سکے اسی طرح ظاہر ہے کہ اصلی غرض آسمانی کتاب کی یہی ہونی چاہئے کہ اپنی پیروی کرنے والے کو اپنی تعلیم اور تاثیر اور قوت اصلاح اور اپنی روحانی خاصیت سے ہر ایک گناہ اور گندی زندگی سے چھوڑا کر ایک پاک زندگی عطا فرما دے اور پھر پاک کرنے کے بعد خدا کی شناخت کے لئے ایک کامل بصیرت عطا کرے۔اور اس ذات بے مثل کے ساتھ جو تمام خوشیوں کا سرچشمہ ہے محبت اور عشق کا تعلق بخشے۔کیونکہ در حقیقت یہی محبت نجات کی جڑ ہے۔اور یہی وہ بہشت ہے جس میں داخل ہونے کے بعد تمام کوفت اور تلخی اور رنج و عذاب دُور ہو جاتا ہے۔اور بلاشبہ زندہ اور کامل کتاب الہامی وہی ہے جو طالب خدا کو اس مقصود تک پہنچا وے اور اس کو سفلی زندگی سے نجات دے کر اس محبوب حقیقی سے ملاوے جس کا وصال عین نجات ہے اور تمام