حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 499
۴۹۹ احمد آخر زماں کز نور او شد دل مردم زخور تاباں ترے لے از بنی آدم فزوں تر در جمال واز لالے پاک تر در گوہرے ۲ بر لبش جاری ز حکمت چشمه در دلش پر از معارف کوثری ۳ بہر حق داماں ز غیرش برفشاند ثانی او نیست در بحر و بری ۴ آں چراغش داد حق کش تا ابد نے خطر نے تم ز بادِ صرصرے ۵ پہلوان حضرت رب جلیل بر میاں بسته ز شوکت خنجری 1 تیر او تیزی بهر میدان نمود شیخ او ہر جا نمودہ جو ہرے کے کرد ثابت بر جہاں بجز بُتاں وا نموده زور آں یک قادرے A تا نماند بے خبر از زور حق بت ستاؤ بت پرست و بُت گرے 2 و راستی دشمن کذب و فساد و هر شرے مل عاشق صدق و سداد خواجہ , مر عاجزان را بنده بادشاہ و بے کساں را کساں را چاکرے !! آں ترتم ہا کہ خلق از وے بدید کس ندیده در جہاں از مادری ۱۲ ے اس احمد آخر زماں کے نور سے لوگوں کے دل آفتاب سے زیادہ روشن ہو گئے۔ے وہ تمام بنی آدم سے بڑھ کر صاحب جمال ہے اور آب و تاب میں موتیوں سے بھی زیادہ روشن ہے۔سے اس کے منہ سے حکمت کا چشمہ جاری ہے اور اُس کے دل میں معارف سے پر ایک کوثر ہے۔خدا کے لئے اُس نے ہر وجود سے اپنا دامن جھاڑ دیا بحرو بر میں اُس کا کوئی ثانی نہیں۔حق نے اُس کو ایسا چراغ دیا ہے کہ تا ابد اُسے ہوائے تند سے کوئی خوف وخطر نہیں۔وہ خدائے جلیل کی درگاہ کا پہلوان ہے اور اُس نے بڑی شان سے کمر میں خنجر باندھ رکھا ہے۔کے اُس کے تیر نے ہر میدان میں تیزی دکھائی ہے اور اُس کی تلوار نے ہر جگہ اپنا جو ہر ظاہر کیا ہے۔اُس نے دنیا پر بتوں کا بجز ثابت کر دیا اور خدائے واحد کی طاقت کھول کر دکھا دی۔تا خدائی طاقت سے بے خبر نہ رہیں بہت ستا، بت پرست اور بہت گر۔وہ صدق۔سچائی اور راستی کا عاشق ہے مگر کذب۔فساد اور شر کا دشمن ہے۔الے وہ اگر چہ آقا ہے مگر کمزوروں کا غلام ہے۔وہ بادشاہ ہے مگر بیکسوں کا چاکر ہے۔وہ مہربانیاں جو مخلوق نے اُس سے دیکھیں وہ کسی نے اپنی ماں میں بھی نہیں پائیں۔