حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 498 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 498

در ره عشق محمد ایں سرد جانم رود ۴۹۸ ایں تمنا این دعا این در دلم عزم صمیم کے توضیح مرام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۲ ۶۳) در دلم جوشد ثنائے سرورے آنکه در خوبی ندارد ہمسرے سے آنکه جانش عاشق یار ازل عاشق یار ازل آنکه روحش واصل آں دلبرے سے آنکه مجذوب عنایات حق سر ہیچو طفلے پروریده در برے کے آنکه در تیر و کرم بحر جود و سخا ابر بهار آنکه در فیض و عطا یک خاوری 1 کرم بحر عظیم آنکه در لطف اتم یکتا ڈرے ۵ آنکه در آں رحیم و رحم حق را آیتے آں کریم و جُودِ حق را مظہرے کے آں رُخ فرخ که یک دیدار او زشت رو را میکند خوش منظرے ۸ آں دل روشن که روشن کرده است صد درون تیره را چون اخترے 2 اں مبارک ہے کہ آمد ذاتِ او رحمتے زاں ذات عالم پرورے نا لے محمد کے عشق میں میرا سر اور میری جان قربان ہو۔یہی میری خواہش ، میری دعا اور میرا دلی ارادہ ہے۔میرے دل میں اُس سردار کی تعریف جوش مار رہی ہے جو خوبی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔سے وہ جس کی جان خدائے ازلی کی عاشق ہے وہ جس کی روح اُس دلبر میں واصل ہے۔ے وہ جو خدا کی مہربانیوں سے اُس کی طرف کھینچا گیا ہے اور خدا کی گود میں ایک بچہ کی مانند پلا ہے۔وہ جو نیکی اور بزرگی میں ایک بحر عظیم ہے اور کمال خوبی میں ایک نایاب موتی ہے۔وہ جو بخشش اور سخاوت میں ابر بہار ہے اور فیض و عطا میں ایک سورج ہے۔کے وہ رحیم ہے اور رحمت حق کا نشان ہے وہ کریم ہے اور بخشش خداوندی کا مظہر ہے۔اُس کا مبارک چہرہ ایسا ہے کہ اُس کا ایک ہی جلوہ بدصورت کو حسین بنا دیتا ہے۔وہ ایسا روشن ضمیر ہے جس نے روشن کر دیا سینکڑوں سیاہ دلوں کو ستاروں کی طرح۔ا وہ ایسا مبارک قدم ہے کہ اُس کی ذات خدا تعالیٰ کی طرف سے رحمت بن کر آئی ہے