حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 496 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 496

۴۹۶ پہلے تو رہ میں ہارے پار اس نے ہیں اوتارے میں جاؤں اس کے وارے بس ناخدا یہی ہے پردے جو تھے ہٹائے اندر کی رہ دکھائے دل یار سے ملائے وہ آشنا یہی ہے وہ یار لامکانی وہ دلبر نہانی دیکھا ہے ہم نے اس سے بس رہنما یہی ہے وہ آج شاہِ دیں ہے وہ تاج مرسلیں ہے وہ طیب و امیں ہے اُس کی نا یہی ہے حق سے جو حکم آئے اُس نے وہ کر دکھائے جو راز تھے بتائے نعم العطاء یہی ہے آنکھ اُس کی دُور ہیں ہے دل یار سے قریں ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے عین الضیاء یہی ہے جو رازِ دیں تھے بھارے اُس نے بتائے سارے دولت کا دینے والا فرمانروا یہی ہے اُس نور پر فدا ہوں اُس کا ہی میں ہوا ہوں وہ ہے میں چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے وہ دلبر یگانہ علموں کا ہے خزانہ باقی ہے سب فسانہ سچ بے خطا یہی ہے سب ہم نے اُس سے پایا شاہد ہے تو خدایا وہ جس نے حق دکھایا وہ مہ لقا یہی ہم تھے دلوں کے اندھے سوسو دلوں پر پھندے پھر کھولے جس نے جندے وہ مجتبی یہی ہے ( قادیان کے آریہ اور ہم۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۵۶) ہے