حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 495 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 495

۴۹۵ بلایا ہم نے ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلاوے یہ ثمر باغ محمدؐ سے ہی کھایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہے نور اُٹھو دیکھو سنایا ہم نے آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل آؤ لوگو! کہ یہیں نور خدا پاؤ گے تو تمہیں طور تسلّی کا بتایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اِس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کے وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفے پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے ترے مونہہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے دلبرا! مجھ کو قسم ہے تیری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۲۴، ۲۲۵) کہتے ہیں یورپ کے ناداں یہ نبی کامل نہیں وحشیوں میں دیں کو پھیلانا یہ کیا مشکل تھا کار پر بنانا آدمی وحشی کو ہے اک معجزہ معنی راز نبوت ہے اسی سے آشکار نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے قوم وحشی میں اگر پیدا ہوئے کیا جائے عار روشنی میں مہر تاباں کی بھلا کیا فرق ہو گرچہ نکلے روم کی سرحد سے یا از زنگ بار (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۴۴) برتر گمان و و ہم سے احمد کی شان ہے جس کا غلام دیکھو مسیح الزمان ہے (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۸۶ حاشیه ) وہ پیشوا ہمارا جس سے ہے نور سارا نام اُس کا ہے نور سارا نام اُس کا ہے محمد دلبر میرا یہی ہے سب پاک ہیں پیمبر اک دوسرے سے بہتر لیک از خدائے برتر خیر الوریٰ یہی ہے پہلوں سے خوب تر ہے خوبی میں اک قمر ہے اس پر ہر اک نظر ہے بدر الد جی یہی ہے