حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 491
۴۹۱ هُوَ فَخُرُ كُلِّ مُطَهَّرٍ وَّ مُقَدَّسِ و به يُبَاهِي الْعَسْكَرُ الرُّوحَانِي ! هُوَ خَيْرُ كُلّ مُقَرَّبٍ مُّتَقَدَّمٍ وَالْفَضْلُ بِالْخَيْرَاتِ لَا بِزَمَانِ وَالطَّلُّ قَدْ يَبْدُو أَمَامَ الْوَابِلِ فَالطَّلُّ طَلٌّ لَيْسَ كَالتَّهْتَانِ ٣ بَطَلٌ رَّحِيدٌ لَا تَطِيشُ سِهَامُهُ ذُو مُصْمِيَاتٍ مُوبِقُ الشَّيْطَانِ : هُوَ جَنَّةٌ إِنِّي أَرَى أَثْمَارَهُ وَقُطُوفَهُ قَدْ ذُلِلَتْ لِجَنَانِي ٥ الْفَيْتُهُ بَحْرَ الْحَقَائِقِ وَالْهُدَى وَرَأَيْتُهُ كَالدُّرِ فِى اللَّمَعَانِ لا قَدْ مَاتَ عِيسَى مُطْرِقَا وَّنَبِيُّنَا حَيٌّ وَرَبِّي إِنَّهُ وَافَانِي = وَاللَّهِ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ جَمَالَهُ بِعُيُونِ جِسْمِي قَاعِدًا بِمَكَانِى وَنَبِيِّنَا حَيٌّ وَإِنِّي شَاهِدٌ وَقَدِ اقْتَطَفْتُ قَطَائِفَ اللُّقْيَان و وَ رَأَيْتُ فِي رَيْعَانِ عُمُرِى وَجُهَهُ ثُمَّ النَّبِيُّ بِيَقْظَتِي لَا قَانِى۔إِنِّي لَقَدْ أُحْيِيتُ مِنْ إِحْيَانِهِ وَاهَا لِإِعْجَازِ فَمَا أَحْيَانِى يَا رَبِّ صَلِّ عَلَى نَبِيِّكَ دَائِمًا في هذِهِ الدُّنْيَا وَبَعْثٍ ثَان 1 لے آپ ہر ایک مطہر اور مقدس کا فخر ہیں اور روحانی لشکر آپ پر ہی ناز کرتا ہے۔آپ ہر مقرب اور (راہ سلوک میں ) آگے بڑھنے والے سے افضل ہیں اور فضیلت کا رہائے خیر پر موقوف ہے نہ کہ زمانہ پر۔سے اور ہلکا مینہ ( یعنی پھوار) کبھی موسلادھار بارش سے پہلے ہوتا ہے۔بالکابینہ، ہلکا مینہ ہی ہے موسلا دھار بارش کی طرح نہیں۔آپ یگانہ پہلوان ہیں جس کے تیر خطا نہیں جاتے۔آپ ٹھیک نشانے پر لگنے والے تیروں کے مالک ( اور ) شیطان کو ہلاک کرنے والے ہیں۔۵، آپ ایک باغ ہیں۔بے شک میں دیکھتا ہوں کہ اس کے پھل اور اس کے خوشے میرے دل کے لئے جھکا دیئے گئے ہیں۔میں نے آپ کو حقائق اور ہدایت کا سمندر پایا اور چمک دمک میں آپ کو موتی کی طرح پایا۔کے عیسی تو سر جھکائے وفات پا گئے اور ہمارے نبی زندہ ہیں اور مجھے رب کی قسم ! آپ نے مجھ سے ملاقات بھی کی ہے۔بخدا! میں نے آپ کے جمال کو اپنی جسمانی آنکھوں سے اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے۔اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ ہیں اور بے شک میں گواہ ہوں اور میں نے آپ کی ملاقات کے ثمرات حاصل کئے ہیں۔ملے میں نے تو (اپنے) عنفوانِ شباب میں ہی آپ کا چہرہ مبارک دیکھا۔پھر نبی علیے میری بیداری میں بھی مجھے ملے ہیں۔11 بے شک میں آپ کے زندہ کرنے سے ہی زندہ ہوا ہوں۔سبحان اللہ ! کیا اعجاز ہے اور مجھے کیا خوب زندہ کیا ہے! اے میرے رب ! اپنے نبی پر ہمیشہ درود بھیجتارہ۔اس دنیا میں بھی اور دوسری دنیا میں بھی۔