حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 490
۴۹۰ يَا شَمْسَ مُلْكِ الْحُسُنِ وَ الْإِحْسَانِ نَوَّرُتَ وَجُهَ الْبَرِّ وَالْعُمْرَان ل قَوْمٌ رَأَوُكَ وَ أُمَّةٌ قَدْ أُخْبِرَتْ مِنْ ذَلِكَ الْبَدْرِ الَّذِي أَصْبَانِي - يَبْكُونَ مِنْ ذِكْرِ الْجَمَالِ صَبَابَةً وَتَالُمًا مِّنْ لَّوْعَةِ الْهِجْرَانِ ٣ وَأَرَى الْقُلُوبَ لَدَى الْحَنَاجِرِ كُرُبَةً وَأَرَى الْغُرُوبَ تُسِيلُهَا الْعَيْنَانِ۔يَا مَنْ غَدَا فِی نُورِهِ وَضِيَائِهِ كَالنَّيْرَيْنِ وَنَوَّرَ الْمَلَوَانِ يَا بَدْرَنَا يَا آيَةَ الرَّحْمَنِ أَهْدَى الْهُدَاةِ وَأَشْجَعَ الشُّجُعَان لا إِنِّي أَرَى فِي وَجُهِكَ الْمُتَهَدِّلِ شَانًا يَّفُوقُ شَمَائِلَ الْإِنْسَانِ - سُجُحْ كَرِيمٌ بَاذِلٌ خِلُ التَّقَى خِرُقْ وَفَاقَ طَوَائِفَ الْفِتْيَان A فَاقَ الْوَرَى بِكَمَالِهِ وَ جَمَالِهِ وَجَلالِهِ وَجَنَانِهِ الرَّيَّانِ۔لَا شَكٍّ أَنَّ مُحَمَّدًا خَيْرُ الْوَرى رَيْقُ الْكِرَامِ وَنُخْبَةُ الْأَعْيَانِ۔تَمَّتْ عَلَيْهِ صِفَاتُ كُلِّ مَزِيَّةٍ خُتِمَتُ بِهِ نَعْمَاءُ كُلِّ زَمَانِ ال وَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا كَرِدَافَةٍ وَبِهِ الْوُصُولُ بِسُدَّةِ السُّلْطَانٍ 28 لے اے حسن واحسان کے ملک کے آفتاب ! تو نے بیابانوں اور آبادیوں کے چہرے کو منور کر دیا ہے۔ے ایک قوم نے تو تجھے دیکھا ہے اور ایک اُمت نے خبر سنی ہے اس بدر کی جس نے مجھے (اپنا) عاشق بنا دیا ہے۔سے وہ تیرے حسن کی یاد میں بوجہ عشق کے (بھی) روتے ہیں اور جدائی کی جلن کے دُکھ اٹھانے سے بھی۔ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ دل بیقراری سے گلے تک آگئے ہیں اور میں دیکھتا ہوں آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں۔اے وہ ہستی جو اپنے نور اور روشنی میں مہر و ماہ کی طرح ہو گئی ہے اور رات اور دن منور ہو گئے ہیں۔اے ہمارے کامل چاند اور اے رحمان کے نشان ! سب راہنماؤں کے راہنما اور سب بہادروں سے بہادر۔کے بے شک میں تیرے درخشاں چہرے میں دیکھ رہا ہوں ایک ایسی شان جو انسانی خصائل پر فوقیت رکھتی ہے۔آپ خوش خلق ، معزز بنی ، تقومی کے بچے دوست، فیاض اور جواں مردوں کے گروہوں پر فوقیت رکھنے والے ہیں۔آپ ساری خلقت سے اپنے کمال اور اپنے جمال اور اپنے جلال اور اپنے شاداب دل کے ساتھ فوقیت لے گئے ہیں۔نا بے شک محمدصلی اللہ علیہ وسلم خیر الورای معززین میں سے برگزیدہ اور سرداروں میں سے منتخب وجود ہیں۔ہر قسم کی فضیلت کی صفات آپ پر کمال کو پہنچ گئیں اور ہر زمانہ کی نعمتیں آپ پر ختم ہو گئیں ہیں۔بخدا! بے شک محمدصلی اللہ علیہ وسلم ( خدا کے ) نائب کے طور پر ہیں اور آپ ہی کے ذریعہ دربار شاہی میں رسائی ہوسکتی ہے۔