حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 489
۴۸۹ بہتر سمجھتے ہیں کہ ایسے شخصوں سے دلی صفائی کریں اور ان کے دوست بن جائیں جن کا کام دن رات یہ ہے کہ وہ ان کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں اور اپنے رسالوں اور کتابوں اور اشتہاروں میں نہایت تو ہین سے ان کا نام لیتے ہیں اور نہایت گندے الفاظ سے اُن کو یاد کرتے ہیں۔آپ یا درکھیں کہ ایسے لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں۔کیونکہ وہ اُن کی راہ میں کانٹے ہوتے ہیں۔اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ہم جنگل کے سانپوں اور بیابانوں کے درندوں سے صلح کر لیں تو یہ ممکن ہے مگر ہم ایسے لوگوں سے صلح نہیں کر سکتے جو خدا کے پاک نبیوں کی شان میں بدگوئی سے باز نہیں آتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور بد زبانی میں ہی فتح ہے مگر ہر ایک فتح آسمان سے آتی ہے۔مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۳۸۶،۳۸۵) اس زمانہ میں جو کچھ دین اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی گئی اور جس قدر شریعت ربانی پر حملے ہوئے اور جس طور سے ارتداد اور الحاد کا دروازہ کھلا۔کیا اس کی نظیر کسی دوسرے زمانہ میں بھی مل سکتی ہے؟ کیا یہ سچ نہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں اس ملک ہند میں ایک لاکھ کے قریب لوگوں نے عیسائی مذہب اختیار کر لیا۔اور چھ کروڑ اور کسی قدر زیادہ اسلام کے مخالف کتابیں تالیف ہوئیں اور بڑے بڑے شریف خاندانوں کے لوگ اپنے پاک مذہب کو کھو بیٹھے یہاں تک کہ وہ جو آل رسول کہلاتے تھے وہ عیسائیت کا جامہ پہن کر دشمن رسول بن گئے اور اس قدر بد گوئی اور اہانت اور دشنام دہی کی کتابیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں چھاپی گئیں اور شائع کی گئیں کہ جن کے سُننے سے بدن پر لرزہ پڑتا اور دل رو رو کر یہ گواہی دیتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہمارے بچوں کو ہماری آنکھوں کے سامنے قتل کرتے اور ہمارے جانی اور دلی عزیزوں کو جو دنیا کے عزیز ہیں ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے اور ہمیں بڑی ذلت سے جان سے مارتے اور ہمارے تمام اموال پر قبضہ کر لیتے تو والله ثم واللہ ہمیں رنج نہ ہوتا۔اور اس قدر کبھی دل نہ رکھتا جوان گالیوں اور اس تو ہین سے جو ہمارے رسول کریم کی کی گئی ڈکھا۔آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۲٬۵۱) لا يَا عَيْنَ فَيُضِ اللَّهِ وَالْعِرُفَانِ يَسْعَى إِلَيْكَ الْخَلُقُ كَالظَّمَانِ يَا بَحْرَ فَضْلِ الْمُنْعِمِ الْمَنَّان تَهُوى إِلَيْكَ الرُّمَرُ بِالْكِيُزَان - لے اے اللہ کے فیض و عرفان کے چشمے ! خلقت تیری طرف پیاسے کی طرح دوڑ رہی ہے۔ہے اے انعام و احسان کرنے والے خدا کے فضل کے سمندر! لوگوں کے گروہ کوزے لئے ہوئے تیری طرف لپکے آ رہے ہیں۔