حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 488 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 488

۴۸۸ کی دُعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا اور وہ عجائب باتیں دکھلا ئیں کہ جو اُس اُمی بے کس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَ الِهِ بِعَدَدِ هَمِّهِ وَ غَمِّهِ وَ حُزْنِهِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ وَ اَنْزِلُ عَلَيْهِ أَنْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الْأَبَدِ ( برکات الدعاء۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۱،۱۰) ابتدائے اسلام میں بھی جو کچھ ہوا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ تھا جو کہ مکہ کی گلیوں میں خدا تعالیٰ کے آگے رو رو کر آپ نے مانگیں۔جس قدر عظیم الشان فتوحات ہوئیں کہ تمام دنیا کے رنگ ڈھنگ کو بدل دیا وہ سب آنحضرت کی دعاؤں کا اثر تھا۔ورنہ صحابہ کی قوت کا تو یہ حال تھا کہ جنگ بدر میں صحابہ کے پاس صرف تین تلوار میں تھیں اور وہ بھی لکڑی کی بنی ہوئی تھیں۔الحکم ۱۷ ستمبر ۱۹۰۶ ء صفحہ ۴ کالم ۳ ۴۰ ) ہمارے سید و مولی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح نہایت وسیع اور عام اور مسلّم الطوائف ہے اور یہ مرتبہ اصلاح کا کسی گذشتہ نبی کو نصیب نہیں ہوا۔اور اگر کوئی عرب کی تاریخ کو آگے رکھ کر سوچے تو اسے معلوم ہو گا کہ اُس وقت کے بُت پرست اور عیسائی اور یہودی کیسے متعصب تھے۔اور کیونکر ان کی اصلاح کی۔صد ہا سال سے نومیدی ہو چکی تھی۔پھر نظر اٹھا کر دیکھیے کہ قرآنی تعلیم نے جو ان کے بالکل مخالف تھی کیسی نمایاں تاثیر میں دکھلا ئیں اور کیسی ہر یک بد اعتقادی اور ہر یک بدکاری کا استیصال کیا۔شراب کو جو ام الخبائث ہے دور کیا۔قمار بازی کی رسم کو موقوف کیا دختر کشی کا استیصال کیا اور جو انسانی رحم اور عدل اور پاکیزگی کے برخلاف عادات تھیں سب کی اصلاح کی۔ہاں مجرموں نے اپنے جرموں کی سزائیں بھی پائیں۔جن کے پانے کے وہ سزا وار تھے۔پس اصلاح کا امرایسا امر نہیں ہے جس سے کوئی انکار کر سکے۔( نور القرآن نمبرا۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۶۶ حاشیه) ہمارے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت سے اور کوئی بڑھ کر شہادت نہیں ہمارا تو اس بات کوسن کر بدن کانپ جاتا ہے کہ جب ایک شخص کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ پیش کیا جائے تو وہ اس کو قبول نہیں کرتا اور دوسری طرف بہکتا پھرتا ہے۔اتمام الحجة - روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۹۳) مسلمان وہ قوم ہے جو اپنے نبی کریم کی عزت کے لئے جان دیتے ہیں اور وہ اس بے عزتی سے مرنا