حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 487
۴۸۷ نہیں دی۔غریب مسلمان عورتوں کو اونٹوں سے باندھ کر مخالف جہات میں دوڑایا اور وہ چیری جاتی تھیں محض اس گناہ پر کہ وہ لا الہ الا اللہ پر کیوں قائل ہوئیں مگر آپ نے اس کے مقابل صبر و برداشت سے کام لیا اور جبکہ مکہ فتح ہوا تو لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ کر معاف فرمایا۔یہ کس قدرا خلاقی کمال ہے جو کسی دوسرے نبی میں نہیں پایا جاتا۔اللهم صل على محمد و على آل محمد۔(الحکم مورخہ ۹ / جولائی ۱۹۰۰ء صفحہ کالم ۳ و صفحہ ۵ کالم ۱۔ملفوظات جلد اول صفحه ۳۵۶، ۳۵۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت نے اپنے رسول مقبول کی راہ میں ایسا اتحاد اور ایسی روحانی یگانگت پیدا کر لی تھی کہ اسلامی اخوت کی رو سے سچ سچ عضو واحد کی طرح ہوگئی تھی اور ان کے روزانہ برتاؤ اور زندگی اور ظاہر و باطن میں انوار نبوت ایسے رچ گئے تھے کہ گویا وہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عکسی تصویریں تھے۔سو یہ بھاری معجزہ اندرونی تبدیلی کا جس کے ذریعہ سے مخش بت پرستی کرنے والے کامل خدا پرستی تک پہنچ گئے۔اور ہر دم دنیا میں غرق رہنے والے محبوب حقیقی سے ایسا تعلق پکڑ گئے کہ اس کی راہ میں پانی کی طرح اپنے خونوں کو بہا دیا۔یہ دراصل ایک صادق اور کامل نبی کی صحبت میں مخلصانہ قدم سے عمر بسر کرنے کا نتیجہ تھا۔فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۱ ۲۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک عظیم الشان کامیاب زندگی ہے۔آپ کیا بلحاظ اپنے اخلاق فاضلہ کے اور کیا بلحاظ اپنی قوت قدسی اور عقد ہمت کے اور کیا بلحاظ اپنی تعلیم کی خوبی اور تکمیل کے اور کیا بلحاظ اپنے کامل نمونہ اور دعاؤں کی قبولیت کے۔غرض ہر طرح اور ہر پہلو میں چمکتے ہوئے شواہد اور آیات اپنے ساتھ رکھتے ہیں کہ جن کو دیکھ کر ایک نبی سے نبی انسان بھی بشر طیکہ اس کے دل میں بے جاضر اور عداوت نہ ہو صاف طور پر مان لیتا ہے کہ آپ تَخَلَّقُوا بِاَخْلَاقِ اللہ کا کامل نمونہ اور کامل انسان ہیں۔الحکم ۱۰ را پریل ۱۹۰۲، صفحه ۵ کالم نمبر ۲) وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گذرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے۔اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں ایک دفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سُنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا ؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں يوسف : ٩٣