حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 486
۴۸۶ اخلاق ہرگز دکھلا نہیں سکتا یہی وجہ ہے کہ آپ کے دشمنوں کے پرانے کینے یکلخت دُور ہو گئے۔آپ کا بڑا بھاری خلق جس کو آپ نے ثابت کر کے دکھلا دیا وہ خلق تھا جو قرآن شریف میں ذکر فرمایا گیا ہے۔اور وہ یہ ہے۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ یعنی ان کو کہہ دے کہ میری عبادت اور میری قربانی اور میرا مرنا اور میرا جینا خدا کی راہ میں ہے یعنی اس کا جلال ظاہر کرنے کے لئے اور نیز اس کے بندوں کے آرام دینے کے لئے ہے۔تا میرے مرنے سے اُن کو زندگی حاصل ہو۔(اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۴۷، ۴۴۸) سب عزتوں سے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے جس کا کل اسلامی دنیا پر اثر ہے آپ ہی کی غیرت نے پھر دنیا کو زندہ کیا۔عرب جن میں زنا ، شراب اور جنگ جوئی کے سوا کچھ رہا ہی نہ تھا اور حقوق العباد کا خون ہو چکا تھا۔ہمدردی اور خیر خواہی نوع انسان کا نام ونشان تک مٹ چکا تھا اور نہ صرف حقوق العباد ہی تباہ ہو چکے تھے بلکہ حقوق اللہ پر اس سے بھی زیادہ تاریکی چھا گئی تھی۔اللہ تعالیٰ کی صفات پتھروں ، بوٹیوں اور ستاروں کو دی گئی تھیں۔قسم قسم کا شرک پھیلا ہوا تھا۔عاجز انسان اور انسان کی شرمگاہوں تک کی پوجا دنیا میں ہو رہی تھی۔ایسی حالت مکروہ کا نقشہ اگر ذرا دیر کے لئے بھی ایک سلیم الفطرت انسان کے سامنے آجاوے تو وہ ایک خطرناک ظلمت اور ظلم وجور کے بھیانک اور خوفناک نظارہ کو دیکھے گا۔فالج ایک طرف گرتا ہے مگر یہ فالج ایسا فالج تھا کہ دونوں طرف گرا تھا۔فساد کامل دنیا میں برپا ہو چکا تھا۔نہ بحر میں امن وسلامتی تھی اور نہ کر پر سکون وراحت۔اب اس تاریکی اور ہلاکت کے زمانہ میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہیں۔آپ نے آ کر کیسے کامل طور پر اس میزان کے دونوں پہلو درست فرمائے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو اپنے اصلی مرکز پر قائم کر دکھایا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی طاقت کا کمال اس وقت ذہن میں آ سکتا ہے جبکہ اس زمانے کی حالت پر نگاہ کی جاوے۔مخالفوں نے آپ کو اور آپ کے متبعین کو جس قدر تکالیف پہونچائیں اور اس کے بالمقابل آپ نے ایسی حالت میں جبکہ آپ کو پورا اقتدار اور اختیار حاصل تھا اُن سے جو کچھ سلوک کیا وہ آپ کے علو شان کو ظاہر کرتا ہے۔ابو جہل اور اس کے دوسرے رفیقوں نے کونسی تکلیف تھی جو آپ کو اور آپ کے جاں نثار خادموں کو الانعام : ٣ ۱۶۳: