حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 484
۴۸۴ کی سخت سخت ایذاؤں پر کیا تھا آفتاب کی طرح اُن کے سامنے روشن ہو گیا۔اور چونکہ فطرتاً یہ بات انسان کی عادت میں داخل ہے کہ اسی شخص کے صبر کی عظمت اور بزرگی انسان پر کامل طور پر روشن ہوتی ہے کہ جو بعد زمانہ آزارکشی کے اپنے آزار دہندہ پر قدرت انتقام پا کر اس کے گناہ کو بخش دے۔اسی وجہ سے مسیح کے اخلاق کہ جو صبر اور حلم اور برداشت کے متعلق تھے بخوبی ثابت نہ ہوئے۔اور یہ امر ا چھی طرح نہ کھلا کہ مسیح کا صبر اور حلم اختیاری تھا یا اضطراری تھا۔کیونکہ مسیح نے اقتدار اور طاقت کا زمانہ نہیں پایا تا دیکھا جاتا کہ اس نے اپنے موذیوں کے گناہ کو عفو کیا یا انتقام لیا۔برخلاف اخلاق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ وہ صد ہا مواقع میں اچھی طرح کھل گئے۔اور امتحان کئے گئے اور اُن کی صداقت آفتاب کی طرح روشن ہو گئی اور جو اخلاق کرم اور جود اور سخاوت اور ایثار اور فتوت اور شجاعت ہوگئی اور زہد اور قناعت اور اغراض عَنِ الدُّنْیا کے متعلق تھے وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک میں ایسے روشن اور تاباں اور درخشاں ہوئے کہ مسیح کیا بلکہ دنیا میں آنحضرت سے پہلے کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا جس کے اخلاق ایسی وضاحت تامہ سے روشن ہو گئے ہوں۔کیونکہ خدائے تعالیٰ نے بے شمار خزائن کے دروازے آنحضرت پر کھول دیئے سو آنجناب نے اُن سب کو خدا کی راہ میں خرچ کیا اور کسی نوع کی تن پروری میں ایک جنبہ بھی خرچ نہ ہوا۔نہ کوئی عمارت بنائی نہ کوئی بارگاہ طیار ہوئی بلکہ ایک چھوٹے سے کچے کوٹھے میں جس کو غریب لوگوں کے کوٹھوں پر کچھ بھی ترجیح نہ تھی اپنی ساری عمر بسر کی۔بدی کرنے والوں سے نیکی کر کے دکھلائی اور وہ جو دل آزار تھے اُن کو اُن کی مصیبت کے وقت اپنے مال سے خوشی پہنچائی۔سونے کے لئے اکثر زمین پر بستر اور رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا جھونپڑا اور کھانے کے لئے نان کو یا فاقہ اختیار کیا۔دنیا کی دولتیں بکثرت اُن کو دی گئیں۔پر آنحضرت نے اپنے پاک ہاتھوں کو دنیا سے ذرا آلودہ نہ کیا اور ہمیشہ فقر کو تونگری پر اور مسکینی کو امیری پر اختیار رکھا اور اُس دن سے جو ظہور فرمایا تا اس دن تک جو اپنے رفیق اعلے سے جاملے بجز اپنے مولیٰ کریم کے کسی کو کچھ چیز نہ سمجھا۔اور ہزاروں دشمنوں کے مقابلہ پر معرکہ جنگ میں کہ جہاں قتل کیا جانا یقینی امر تھا خالصا خدا کے لئے کھڑے ہو کر اپنی شجاعت اور وفاداری اور ثابت قدمی دکھلائی۔غرض جود اور سخاوت اور زہد اور قناعت اور مردی اور شجاعت اور محبت الہیہ کے متعلق جو جو اخلاق فاضلہ ہیں وہ بھی خدا وند کریم نے حضرت خاتم الانبیاء میں ایسے ظاہر کئے کہ جن کی مثل نہ کبھی دنیا میں ظاہر ہوئی اور نہ آئندہ ظاہر ہو گی۔لیکن حضرت مسیح علیہ السلام میں اس قسم کے اخلاق بھی اچھی طرح ثابت نہیں ہوئے کیونکہ یہ سب