حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 483 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 483

۴۸۳ دونوں میسر ہوں۔پس چونکہ بجز زمانه مصیبت و ادبار و زمانه دولت و اقتدار یہ دونوں قسم کے اخلاق ظاہر نہیں ہو سکتے اس لئے حکمتِ کاملہ ایزدی نے تقاضا کیا کہ انبیاء اور اولیاء کو ان دونوں طور کی حالتوں سے کہ جو ہزار ہا نعمتوں پر مشتمل ہیں متمتع کرے لیکن ان دونوں حالتوں کا زمانہ وقوع ہر ایک کے لئے ایک ترتیب پر نہیں ہوتا بلکہ حکمت الہیہ بعض کے لئے زمانہ امن و آسائش پہلے حصہ عمر میں میسر کر دیتی ہے اور زمانہ تکالیف پیچھے سے اور بعض پر پہلے وقتوں میں تکالیف وارد ہوتی ہیں اور پھر آخر کار نصرت الہی شامل ہو جاتی ہے اور بعض میں یہ دونوں حالتیں مخفی ہوتی ہیں۔اور بعض میں کامل درجہ پر ظہور و بروز پکڑتی ہیں اور اس بارے میں سب سے اوّل قدم حضرت خاتم الرسل محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کمال وضاحت سے یہ دونوں حالتیں وارد ہو گئیں اور ایسی ترتیب سے آئیں کہ جس سے تمام اخلاق فاضلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مثل آفتاب کے روشن ہو گئے اور مضمون إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ کا پایہ ثابت پہنچ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا دونوں طور پر علی وجہ الکمال ثابت ہونا تمام انبیاء کے اخلاق کو ثابت کرتا ہے کیونکہ آنجناب نے ان کی نبوت اور ان کی کتابوں کو تصدیق کیا اور ان کا مقرب اللہ ہونا ظاہر کر دیا ہے۔پس اس تحقیق سے یہ اعتراض بھی بالکل دُور ہو گیا کہ جو مسیح کے اخلاق کی نسبت دلوں میں گذر سکتا ہے۔یعنی یہ کہ اخلاق حضرت مسیح علیہ السلام دونوں قسم مذکورہ بالا پر علی وجہ الکمال ثابت نہیں ہو سکتے بلکہ ایک قسم کے رو سے بھی ثابت نہیں ہیں کیونکہ مسیح نے جو زمانہ مصیبتوں میں صبر کیا تو کمالیت اور صحت اس صبر کی تب بپایۂ صداقت پہنچ سکتی تھی کہ جب صحیح اپنے تکلیف دہندوں پر اقتدار اور غلبہ پا کر اپنے موذیوں کے گناہ دلی صفائی سے بخش دیتا جیسا حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں اور دوسرے لوگوں پر بکتی فتح پا کر اور ان کو اپنی تلوار کے نیچے دیکھ کر پھر ان کا گناہ بخش دیا۔اور صرف انہیں چند لوگوں کو سزا دی جن کو سزا دینے کے لئے حضرت احدیت کی طرف سے قطعی حکم وارد ہو چکا تھا اور بجز ان از لی ملعونوں کے ہر یک دشمن کا گناہ بخش دیا اور فتح پا کر سب کو لَا تَثْرِیبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ نے کہا اور اس عفو تقصیر کی وجہ سے کہ جو مخالفوں کی نظر میں ایک امر محال معلوم ہوتا تھا اور اپنی شرارتوں پر نظر کرنے سے وہ اپنے تیں اپنے مخالف کے ہاتھ میں دیکھ کر مقتول خیال کرتے تھے ہزاروں انسانوں نے ایک ساعت میں دین اسلام قبول کر لیا اور حقانی صبر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کہ جو ایک زمانہ دراز تک آنجناب نے اُن القلم : ۵ يوسف : ٩٣