حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 482 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 482

۴۸۲ چھوڑ کر انہیں پر نظر عنایت کی اور انہیں کو اس لائق سمجھا کہ اُس کے لئے اور اُس کی راہ میں ستائے جائیں۔سو خدائے تعالیٰ اُن پر مصیبتیں نازل کرتا ہے تا ان کا صبر ان کا صدق قدم اُن کی مردی ان کی استقامت ان کی وفاداری ان کی فتوت شعاری لوگوں پر ظاہر کر کے الاستقامة فوق الكرامة كا مصداق ان کو ٹھہرا دے۔کیونکہ کامل صبر بجز کامل مصیبتوں کے ظاہر نہیں ہوسکتا۔اور اعلیٰ درجہ کی استقامت اور ثابت قدمی بجز اعلیٰ درجہ کے زلزلہ کے معلوم نہیں ہو سکتی اور یہ مصائب حقیقت میں انبیاء اور اولیاء کے لئے روحانی نعمتیں ہیں جن سے دنیا میں ان کے اخلاق فاضلہ جن میں وہ بے مثل و مانند ہیں ظاہر ہوتے ہیں اور آخرت میں ان کے درجات کی ترقی ہوتی ہے۔اگر خدا ان پر یہ مصیبتیں نازل نہ کرتا تو یہ نعمتیں بھی ان کو حاصل نہ ہوتیں اور نہ عوام پر اُن کے شمائل حسنہ کما حقہ کھلتے۔بلکہ دوسرے لوگوں کی طرح اور ان کے مساوی ٹھہرتے۔اور گو اپنی چند روزہ عمر کو کیسے ہی عشرت اور راحت میں بسر کرتے پر آخر ایک دن اس دار فانی سے گذر جاتے اور اس صورت میں نہ وہ عیش اور عشرت اُن کی باقی رہتی نہ آخرت کے درجات عالیہ حاصل ہوتے نہ دنیا میں اُن کی وہ فتوت اور جواں مردی اور وفا داری اور شجاعت شہرہ آفاق ہوتی جس سے وہ ایسے ارجمند ٹھہرے جن کا کوئی مانند نہیں اور ایسے لگا نہ ٹھہرے جن کا کوئی ہم جنس نہیں اور ایسے فرد الفرد ٹھہرے جن کا کوئی ثانی نہیں اور ایسے غیب الغیب ٹھہرے جن تک کسی ادراک کی رسائی نہیں۔اور ایسے کامل اور بہادر ٹھہرے کہ گویا ہزار ہاشیر ایک قالب میں ہیں۔اور ہزار ہا پلنگ ایک بدن میں جن کی قوت اور طاقت سب کی نظروں سے بلند تر ہو گئی اور جو تقرب کے اعلیٰ درجات تک پہنچ گئی۔اور دوسرا حصہ انبیاء اور اولیاء کی عمر کا فتح میں، اقبال میں، دولت میں ، بمرتبہ کمال ہوتا ہے تا وہ اخلاق اُن کے ظاہر ہو جائیں کہ جن کے ظہور کے لئے فتح مند ہونا، صاحب اقبال ہونا ، صاحب دولت ہونا، صاحب اختیار ہونا، صاحب اقتدار ہونا ، صاحب طاقت ہونا ضروری ہے۔کیونکہ اپنے دُکھ دینے والوں کے گناہ بخشا اور اپنے ستانے والوں سے درگذر کرنا اور اپنے دشمنوں سے پیار کرنا۔اور اپنے بداندیشوں کی خیر خواہی بجالانا دولت سے دل نہ لگانا۔دولت سے مغرور نہ ہونا۔دولتمندی میں امساک اور بخل اختیار نہ کرنا اور کرم اور جود اور بخشش کا دروازہ کھولنا اور دولت کو ذریعہ نفس پروری نہ ٹھہرانا اور حکومت کو آلۂ ظلم و تعدی نہ بنانا یہ سب اخلاق ایسے ہیں کہ جن کے ثبوت کے لئے صاحب دولت اور صاحب طاقت ہونا شرط ہے اور اُسی وقت بپایہ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب انسان کے لئے دولت و اقتدار