حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 481 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 481

۴۸۱ جاتے۔ایک تو وہ موقعہ تھا جب کفار قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کا محاصرہ کیا اور قسمیں کھا لی تھیں کہ آج ہم ضرور قتل کریں گے۔(۲) دوسرا وہ موقعہ تھا جبکہ کافر لوگ اس غار پر معہ ایک گروہ کثیر کے پہنچ گئے تھے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مع حضرت ابوبکر کے چھپے ہوئے تھے۔(۳) تیسرا وہ نازک موقعہ تھا جبکہ اُحد کی لڑائی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے رہ گئے تھے اور کافروں نے آپ کے گرد محاصرہ کر لیا تھا۔اور آپ پر بہت سی تلوار میں چلائیں مگر کوئی کارگر نہ ہوئی۔یہ ایک معجزہ تھا۔(۴) چوتھا وہ موقعہ تھا جبکہ ایک یہودیہ نے آنجناب کو گوشت میں زہر دے دی تھی اور وہ زہر بہت تیز اور مہلک تھی اور بہت وزن اُس کا دیا گیا تھا (۵) پانچواں وہ نہایت خطرناک موقع تھا جبکہ خسرو پرویز شاہ فارس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے لئے مصم ارادہ کیا تھا اور گرفتار کرنے کے لئے اپنے سپاہی روانہ کئے تھے۔پس صاف ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان تمام پر خطر موقعوں سے نجات پانا اور ان تمام دشمنوں پر آخر کار غالب ہو جانا ایک بڑی زبر دست دلیل اس بات پر ہے کہ در حقیقت آپ صادق تھے اور خدا آپ کے ساتھ تھا۔چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۶۳ ۲۶۴ حاشیه ) انبیاء اور اولیاء کا وجود اس لئے ہوتا ہے کہ تا لوگ جمیع اخلاق میں اُن کی پیروی کریں۔اور جن امور پر خدا نے ان کو استقامت بخشی ہے اُسی جادہ استقامت پر سب حق کے طالب قدم ماریں اور یہ بات نہایت بد یہی ہے کہ اخلاق فاضلہ کسی انسان کے اس وقت بپایہ ثبوت پہنچتے ہیں کہ جب اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوں اور اُسی وقت دلوں پر اُن کی تاثیریں بھی ہوتی ہیں مثلا عفو وہ معتبر اور قابل تعریف ہے کہ جو قدرت انتقام کے وقت میں ہو اور پر ہیز گاری وہ قابل اعتبار ہے کہ جو نفس پروری کی قدرت موجود ہوتے ہوئے پھر پرہیز گاری قائم رہے۔غرض خدائے تعالیٰ کا ارادہ انبیاء اور اولیاء کی نسبت یہ ہوتا ہے کہ اُن کے ہر یک قسم کے اخلاق ظاہر ہوں اور یہ پایہ ثبوت پہنچ جائیں۔سوخدائے تعالیٰ اسی ارادہ کو پورا کرنے کی غرض سے ان کی نورانی عمر کو دو حصہ پر منقسم کر دیتا ہے۔ایک حصہ تنگیوں اور مصیبتوں میں گذرتا ہے اور ہر طرح سے دُکھ دیئے جاتے ہیں اور ستائے جاتے ہیں تا وہ اعلیٰ اخلاق اُن کے ظاہر ہو جائیں کہ جو بجز سخت تر مصیبتوں کے ہرگز ظاہر اور ثابت نہیں ہو سکتے۔اگر اُن پر وہ سخت تر مصیبتیں نازل نہ ہوں تو یہ کیونکر ثابت ہو کہ وہ ایک ایسی قوم ہے کہ مصیبتوں کے پڑنے سے اپنے مولیٰ سے بے وفائی نہیں کرتے بلکہ اور بھی آگے قدم بڑھاتے ہیں۔اور خداوند کریم کا شکر کرتے ہیں کہ اُس نے سب کو