حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 37
۳۷ دنیا کو فائدہ ہوتا ہے اور درحقیقت وہ ایک روحانی آفتاب نکلتا ہے جس کی کم و بیش دُور دُور تک روشنی پہنچتی ہے اور جیسی آفتاب کی مختلف تاثیریں حیوانات و نباتات و جمادات اور ہر یک قسم کے جسم پر پڑ رہی ہیں اور بہت کم لوگ ہیں جو ان تاثیروں پر باستیفا علم رکھتے ہیں۔اسی طرح وہ شخص جو مامور ہو کر آتا ہے تمام طبائع اور اطراف اکناف عالم پر اس کی تاثیریں پڑتی ہیں اور جب ہی سے کہ اس کا پُر رحمت تعین آسمان پر ظاہر ہوتا ہے آفتاب کی کرنوں کی طرح فرشتے آسمان سے نازل ہونے شروع ہوتے ہیں۔اور دنیا کے دُور دُور کناروں تک جو لوگ راستبازی کی استعداد رکھتے ہیں۔اُن کو سچائی کی طرف قدم اٹھانے کی قوت دیتے ہیں اور پھر خود بخود نیک نہاد لوگوں کی طبیعتیں سچ کی طرف مائل ہوتی جاتی ہیں۔سو یہ سب اس ربانی آدمی کی صداقت کے نشان ہوتے ہیں جس کے عہد ظہور میں آسمانی قوتیں تیز کی جاتی ہیں۔کچی وحی کا خدائے تعالیٰ نے یہی نشان دیا ہے کہ جب وہ نازل ہوتی ہے تو ملائک بھی اس کے ساتھ ضرور اُترتے ہیں اور دنیا دن بدن راستی کی طرف پلٹا کھاتی جاتی ہے۔سو یہ عام علامت اس مامور کی ہے جو خدائے تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور خاص علامتیں وہ ہیں جو بھی ہم ذکر کر چکے ہیں۔(ازالہ اوہام حصہ دوم۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۳۴۰ تا ۳۳۹) مسیح موعود کا دعوی اگر اپنے ساتھ ایسے لوازم رکھتا جن سے شریعت کے احکام اور عقائد پر کچھ مخالفانہ اثر پہنچتا تو بے شک ایک ہولناک بات تھی لیکن دیکھنا چاہئے کہ میں نے اس دعوی کے ساتھ کس اسلامی حقیقت کو منقلب کردیا ہے۔کون سے احکام اسلام میں سے ایک ذرہ بھی کم یا زیادہ کر دیا ہے۔ہاں ایک پیشگوئی کے وہ معنے کئے گئے ہیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے وقت پر مجھ پر کھولے ہیں اور قرآن کریم ان معنوں کی صحت کے لئے گواہ ہے اور احادیث صحیحہ بھی ان کی شہادت دیتی ہیں پھر نہ معلوم کہ اس قدر کیوں شور وغوغا ہے! ہاں طالب حق ایک سوال بھی اس جگہ کر سکتا ہے اور وہ یہ کہ مسیح موعود کا دعوی تسلیم کرنے کے لئے کون سے قرائن موجود ہیں کیونکہ کسی مدعی کی صداقت ماننے کے لئے قرائن تو چاہئے خصوصا آج کل کے زمانہ میں جو مکر اور فریب اور بددیانتی سے بھرا ہوا ہے اور دعاوی باطلہ کا بازار گرم ہے۔اس سوال کے جواب میں مجھے یہ کہنا کافی ہے کہ مندرجہ ذیل امور طالب حق کے لئے بطور علامات اور قرائن کے ہیں۔(1) اوّل وہ پیشگوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تواتر معنوی تک پہنچ گئی ہے جس کا مطلب یہ