حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 38

ہے کہ خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ہر یک صدی کے سر پر وہ ایسے شخص کو مبعوث کرے گا جو دین کو پھر تازہ کر دے گا اور اس کی کمزوریوں کو دُور کر کے پھر اپنی اصلی طاقت اور قوت پر اس کو لے آوے گا اس پیشگوئی کی رو سے ضرور تھا کہ کوئی شخص اس چودھویں صدی پر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوتا اور موجود خرابیوں کی اصلاح کے لئے پیش قدمی دکھلاتا۔سو یہ عاجز عین وقت پر مامور ہوا۔اس سے پہلے صد ہا اولیا نے اپنے الہام سے گواہی دی تھی کہ چودھویں صدی کا مجد دمسیح موعود ہوگا اور احادیث صحیحہ نبویہ پکار پکار کہتی ہیں کہ تیرھویں صدی کے بعد ظہور مسیح ہے۔پس کیا اس عاجز کا یہ دعویٰ اس وقت عین اپنے محل اور اپنے وقت پر نہیں ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ فرمودہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم خطا جاوے۔میں نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اگر فرض کیا جاوے کہ چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود پیدا نہیں ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی پیشگوئیاں خطا جاتی ہیں اور صد ہا بزرگوار صاحب الہام جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔(۲) اس بات کو بھی سوچنا چاہئے کہ جب علماء سے یہ سوال کیا جائے کہ چودھویں صدی کا مجدد ہونے کے لئے بجز اس احقر کے اور کس نے دعوی کیا ہے اور کس نے منجانب اللہ آنے کی خبر دی ہے اور ملہم ہونے اور مامور ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو اس کے جواب میں وہ بالکل خاموش ہیں اور کسی شخص کو پیش نہیں کر سکتے جس نے ایسا دعویٰ کیا ہو۔۔(۳) تیسری علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ بعض اہل اللہ نے اس عاجز سے بہت سے سال پہلے اس عاجز کے آنے کی خبر دی ہے یہاں تک کہ نام اور سکونت اور عمر کا حال بتصریح بتلایا ہے۔جیسا کہ نشان آسمانی میں لکھ چکا ہوں۔(۴) چوتھی علامت اس عاجز کے صدق کی یہ ہے کہ اس عاجز نے بارہ ہزار کے قریب خط اور اشتہار الہامی برکات کے مقابلہ کے لئے مذاہب غیر کی طرف روانہ کئے بالخصوص پادریوں میں سے شاید ایک بھی نامی پادری یورپ اور امریکہ اور ہندوستان میں باقی نہیں رہا ہو گا جس کی طرف خط رجسٹری کر کے نہ بھیجا ہومگر سب پر حق کا رعب چھا گیا۔اب جو ہماری قوم کے ملا مولوی لوگ اس دعوت میں نکتہ چینی کرتے ہیں پرو در حقیقت یہ ان کی دروغ گوئی اور نجاست خواری ہے۔مجھے یہ قطعی طور پر بشارت دی گئی ہے کہ اگر کوئی مخالف دین میرے سامنے مقابلہ کے لئے آئے گا تو میں اس پر غالب ہوں گا اور وہ ذلیل ہوگا۔