حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 456

۴۵۶ ایک وہ زمانہ تھا کہ انجیل کے واعظ بازاروں اور گلیوں اور کوچوں میں نہایت دریدہ دہانی سے اور سراسر افترا سے ہمارے سید و مولی خاتم الانبیاء اور افضل الرسل والاصفیاء اور سید المعصومین والاتقیاء حضرت محبوب جناب احدیت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ قابل شرم جھوٹ بولا کرتے تھے کہ گویا آنجناب سے کوئی پیشگوئی یا معجزہ ظہور میں نہیں آیا اور اب یہ زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے علاوہ ان ہزار ہا معجزات کے جو ہمارے سرور و مولی شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف اور احادیث میں اس کثرت سے مذکور ہیں جو اعلیٰ درجہ کے تو اتر پر ہیں۔تازہ بتازہ صد ہانشان ایسے ظاہر فرمائے ہیں کہ کسی مخالف اور منکر کو اُن کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ہم نہایت نرمی اور انکسار سے ہر ایک عیسائی صاحب اور دوسرے مخالفوں کو کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ در حقیقت یہ بات سچ ہے کہ ہر ایک مذہب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو کر اپنی سچائی پر قائم ہوتا ہے اس کے لئے ضرور ہے کہ ہمیشہ اُس میں ایسے انسان پیدا ہوتے رہیں کہ جو اپنے پیشوا اور ہادی اور رسول کے نائب ہو کر یہ ثابت کریں کہ وہ نبی اپنی روحانی برکات کے لحاظ سے زندہ ہے فوت نہیں ہوا کیونکہ ضرور ہے کہ وہ نبی جس کی پیروی کی جائے جس کو شفیع اور منجی سمجھا جائے وہ اپنی روحانی برکات کے لحاظ سے ہمیشہ زندہ ہو اور عزت اور رفعت اور جلال کے آسمان پر اپنے چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ ایسا بدیہی طور پر مقیم ہو اور خدائے ازلی ابدی حتی قیوم ذوالاقتدار کے دائیں طرف بیٹھنا اُس کا ایسے پُر زور الہی نوروں سے ثابت ہو کہ اُس سے کامل محبت رکھنا اور اُس کی کامل پیروی کرنا لازمی طور پر اس نتیجہ کو پیدا کرتا ہو کہ پیروی کرنے والا روح القدس اور آسمانی برکات کا انعام پائے اور اپنے پیارے نبی کے نوروں سے نور حاصل کر کے اپنے زمانہ کی تاریکی کو دُور کرے اور مستعد لوگوں کو خدا کی ہستی پر وہ پختہ اور کامل اور درخشاں اور تاباں یقین بخشے جس سے گناہ کی تمام خواہشیں اور سفلی زندگی کے تمام جذبات جل جاتے ہیں۔یہی ثبوت اس بات کا ہے کہ وہ نبی زندہ اور آسمان پر ہے۔سو ہم اپنے خدائے پاک ذوالجلال کا کیا شکر کریں کہ اس نے اپنے پیارے نبی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی کی توفیق دے کر اور پھر اس محبت اور پیروی کے رُوحانی فیضوں سے جو کچی تقوی اور بچے آسمانی نشان ہیں کامل حصہ عطا فرما کر ہم پر ثابت کر دیا کہ وہ ہمارا پیارا برگزیدہ نبی فوت نہیں ہوا بلکہ وہ بلند تر آسمان پر اپنے ملیک مقتدر کے دائیں طرف بزرگی اور جلال کے تخت پر بیٹھا ہے۔اللَّهُمْ صَلَّ عَلَيْهِ وَ بَارِكْ وَسَلَّم - إِنَّ اللهَ وَمَلَبِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِي