حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 455
۴۵۵۔جگہ سے نکلنے کی گنجایش ہوتی تو میں اپنا فخر سمجھتا کہ خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور غلاموں کی طرح جناب مقدس کے پاؤں دھویا کروں مگر ایک خبیث اور پلید دل پادشاہ کسری ایران کے فرماں روا نے غصہ میں آ کر آپ کے پکڑنے کے لئے سپاہی بھیج دیئے۔وہ شام کے قریب پہنچے اور کہا کہ ہمیں گرفتاری کا حکم ہے۔آپ نے اس بے ہودہ بات سے اعراض کر کے فرمایا۔تم اسلام قبول کرو۔اُس وقت آپ صرف دو چار اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے مگر ربانی رُعب سے وہ دونوں بید کی طرح کانپ رہے تھے۔آخر انہوں نے کہا کہ ہمارے خداوند کے حکم یعنی گرفتاری کی نسبت جناب عالی کا کیا جواب ہے؟ کہ ہم جواب ہی لے جائیں۔حضرت نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا کل تمہیں جواب ملے گا۔صبح کو جو وہ حاضر ہوئے تو آنجناب نے فرمایا کہ وہ جسے تم خداوند خداوند کہتے ہو وہ خدا وند نہیں ہے۔خداوند وہ ہے جس پر موت اور فنا طاری نہیں ہوتی مگر تمہارا خداوند آج رات کو مارا گیا۔میرے بچے خداوند نے اُسی کے بیٹے شیرویہ کو اُس پر مسلط کر دیا۔سو وہ آج رات اُس کے ہاتھ سے قتل ہو گیا اور یہی جواب ہے۔یہ بڑا معجزہ تھا۔اس کو دیکھ کر اس ملک کے ہزار ہا لوگ ایمان لائے کیونکہ اُسی رات در حقیقت خسرو پرویز یعنی کسری مارا گیا تھا اور یا درکھنا چاہئے کہ یہ بیان انجیلوں کی بے سروپا اور بے اصل باتوں کی طرح نہیں بلکہ احادیث صحیحہ اور تاریخی ثبوت اور مخالفوں کے اقرار سے ثابت ہے۔چنانچہ ڈیون پورٹ صاحب بھی اس قصہ کو اپنی کتاب میں لکھتا ہے لیکن اُس وقت کے بادشاہوں کے سامنے حضرت مسیح کی جو عزت تھی وہ آپ پر پوشیدہ نہیں وہ اوراق شائد اب تک انجیل میں موجود ہوں گے جن میں لکھا ہے کہ ہیرودیس نے حضرت مسیح کو مجرموں کی طرح پیلاطوس کی طرف چالان کیا۔اور وہ ایک مدت تک شاہی حوالات میں رہے کچھ بھی خدائی پیش نہیں گئی۔اور کسی پادشاہ نے یہ نہ کہا کہ میرا فخر ہوگا اگر میں اُس کی خدمت میں رہوں اور اس کے پاؤں دھویا کروں بلکہ پلاطوس نے یہودیوں کے حوالہ کر دیا۔کیا یہی خدائی تھی ؟ عجیب مقابلہ ہے۔دو شخصوں کو ایک ہی قسم کے واقعات پیش آئے اور دونوں نتیجہ میں ایک دوسرے سے بالکل ممتاز ثابت ہوتے ہیں۔ایک شخص کے گرفتار کرنے کو ایک متکبر جبار کا شیطان کے وسوسہ سے برانگیختہ ہونا اور خود آخر لعنت الہی میں گرفتار ہو کر اپنے بیٹے کے ہاتھ سے بڑی ذلت کے ساتھ قتل کیا جانا۔اور ایک دوسرا انسان ہے جسے قطع نظر اپنے اصلی دعووں کے غلو کرنے والوں نے آسمان پر چڑھا رکھا ہے سچ سچ گرفتار ہو جانا۔چالان کیا جانا اور عجیب ہیئت کے ساتھ ظالم پولیس کی حوالت میں ایک شہر سے دوسرے شہر میں منتقل کیا جانا۔( نور القرآن نمبر ۲۔روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴ ۳۸ تا ۳۸۶)