حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 442

۴۴۲ قرآن شریف میں اس مسئلہ کو ایک عمدہ مثال میں بیان کیا ہے جو ذیل میں معہ ایک لطیف تحقیقات جو اس کی تفسیر سے متعلق اور بحث ہذا کی تکمیل کے لئے ضروری ہے لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيهَا مِصْبَاحُ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يَوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَرَكَةٍ زَيْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيِّ ، وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُوْرٌ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَضْرِبُ اللهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ الجزو نمبر ١٨ خدا آسمان وزمین کا نور ہے یعنی ہر ایک ٹور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے خواہ وہ ارواح میں ہے خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ ذہنی ہے خواہ خارجی اُسی کے فیض کا عطیہ ہے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرتِ ربّ العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہو رہا ہے اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں۔وہی تمام فیوض کا مبدء ہے اور تمام انوار کا عِلتُ الْعِلل اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے۔اُسی کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیوم اور تمام زیروزبر کی پناہ ہے۔وہی ہے جس نے ہر یک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا اور خلعت وجود بخشا۔بجز اس کے کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو یا اس سے مستفیض نہ ہو بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور رُوح اور جسم سب اُسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔یہ تو عام فیضان ہے جس کا بیان آیت الله نُورُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ میں ظاہر فرمایا گیا۔یہی فیضان ہے جس نے دائرہ کی طرح ہر یک چیز پر احاطہ کر رکھا ہے جس کے فائز ہونے کے لئے کوئی قابلیت شرط نہیں لیکن بمقابلہ اس کے ایک خاص فیضان بھی ہے جو مشروط بشرائط ہے اور انہیں افرادِ خاصہ پر فائض ہوتا ہے جن میں اس کے قبول کرنے کی قابلیت و استعداد موجود ہے۔یعنی نفوس کاملہ انبیاء علیہم السلام پر جن میں سے افضل و اعلی ذات جامع البرکات حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہے دوسروں پر ہرگز نہیں ہوتا۔اور چونکہ وہ فیضان ایک نہایت باریک صداقت ہے اور دقائق حکمیہ میں سے ایک دقیق مسئلہ ہے اس لئے خداوند تعالیٰ نے اوّل فیضان عام کو ( جو بدیہی الظہور ہے ) بیان کر کے پھر اس فیضان خاص کو بغرض اظہار کیفیت نور حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم ایک مثال میں بیان فرمایا ہے کہ جو اس آیت النور : ٣٦