حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 441
نے توریت میں یہ بات کہہ کر کہ خدا سینا سے آیا اور سعیر سے طلوع ہوا اور فاران کے پہاڑ سے اُن پر چمکا صاف جتلا دیا کہ جلالیت الہی کا ظہور فاران پر آ کر اپنے کمال کو پہنچ گیا اور آفتاب صداقت کی پوری پوری شعائیں فاران پر ہی آکر ظہور پذیر ہوئیں اور وہی تو ریت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ فاران مکہ معظمہ کا پہاڑ ہے جس میں حضرت اسماعیل علیہ السلام جد امجد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سکونت پذیر ہوئے اور یہی بات جغرافیہ کے نقشوں سے بپایہ ثبوت پہنچتی ہے اور ہمارے مخالف بھی جانتے ہیں کہ مکہ معظمہ میں سے بجز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی رسول نہیں اُٹھا۔سو دیکھو حضرت موسیٰ۔کیسی صاف صاف شہادت دی گئی ہے کہ وہ آفتاب صداقت جو فاران کے پہاڑ سے ظہور پذیر ہو گا اُس کی شعاعیں سب سے زیادہ تیز ہیں اور سلسلہ ترقیات نور صداقت اُسی کی ذات جامع برکات پر ختم ہے۔اس تمام تقریر کا مدعا وخلاصہ یہ ہے کہ عند العقل قرب الہی کے مراتب تین قسم پر منقسم ہیں اور تیسرا مرتبہ قرب کا جو مظہر اتم الوہیت اور آئینہ خدا نما ہے حضرت سیدنا ومولانا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مسلم ہے جس کی شعاعیں ہزار ہا دلوں کو منور کر رہی ہیں اور بے شمار سینوں کو اندرونی ظلمتوں سے پاک کر کے نور قدیم تک پہنچا رہے ہیں۔وَلِلَّهِ دَرُّ الْقَائِل محمد عربی بادشاہ ہر دو سرا کرے ہے روح قدس جس کے در کی دربانی اسے خدا تو نہیں کہہ سکوں پہ کہتا ہوں کہ اس کی مرتبہ دانی میں ہے خدا دانی کیا ہی خوش نصیب وہ آدمی ہے جس نے محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو پیشوائی کے لئے قبول کیا اور قرآن شریف کو رہنمائی کے لئے اختیار کر لیا۔اللهم صل علی سیدنا و مولانا محمد واله و اصحابه الحمد لله الذى هدى قلبنا لحبه و لحب رسوله و جميع عباده المقربين۔تا بر دلم نظر شد از مهر و ماه مارا کردست سیم خالص قلب سیاه مارا لطف عمیم دلبر ہر دم مرا بخواند ہر چند می زنند این اغیار راه مارا در کوئے دلستانم چوں خاک کو شب و روز دیگر نشان چه باشد اقبال و جاه مارا اے سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۳۲ تا ۳۰۱ حاشیه ) اجمعين۔ے جب میرے دل پر میرے چاند نے محبت کی نظر ڈالی تو میرے سیاہ دل کو خالص چاندی بنا دیا۔دلبر کی عالمگیر مہربانیاں مجھے بلا رہی ہیں ہر چند کہ یہ غیر لوگ ہمارے راستہ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔میں تو دن رات اپنے محبوب کے کوچہ میں خاک کی طرح پڑا رہتا ہوں اس سے بڑھ کر ہمارے عزت و اقبال کی اور کیا علامت ہے۔